(یہاں حضرت نے وہ قصہ بیان کیا۱؎)پس یہ سچی بات ہے کہ نفس امارہ کی تاروں میں جو یہ جکڑا ہوا ہے اس سے رہائی بغیر موت کے ممکن ہی نہیں۔
مقام اعملو ما شئتم
اسی موت کی طرف اشارہ کرکے قرآن شریف میں فرمایا ہے
واعبد ربک حتی یاتیک الیقین (الحجر:۱۰۰)
اس جگہ یقین سے مراد موت بھی یعنی انسان کی اپنی ہواوہوس پو ری فنا طاری ہو کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت رہ جاوے اور وہ یہاں تک ترقی کرے کہ کوئی جنبش اور حرکت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نہ ہو۲؎
سید عند القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ موت انسان پر وارد ہو جاتی ہے تو سب عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں۔۳؎ اور پھر خود ہی سوال کرتے ہیں کی کیا انسان اباحتی ہوجاتا ہے اور سب کچھ اس کے لیے جائز