قبض کی حالت میں اللی تعالیٰ سے بسط چاہے تو اس قبض سے بسط نکل آئے گی اور رقت پیدا ہوجائے گی۔یہی وہ وقت ہوتا ہے جو قبولیت کی گھڑی کہلاتا ہے۔وہ دیکھے گا کہ اس وقت روح آستانہ الوہیت پر پانی کی طرح بہتی ہے اور گویا ایک قطرہ ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف گرتا ہے۔
مسیح علیہ السلام کی مضطر بانہ دعا
میں نے خیال کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا واقعہ بھی عجیب ہے۔اور وہ حالت دعا کا ایک صحیح نقشہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی بد قضاء وقدر مقدر تھی اور وہ قبل از وقت ان کو دکھائی گئی تھی اور انہوں نے بھی یہی سمجھا تھا کہ اس سے رہائی محال ہے اور پہلے نبیوں نے بھی ایسا ہی سمجھا تھا اور آثار بھی ایسے ہی نظر آتے تھے ۔اس واسطے انہوں نے بڑی بیکلی اور اضطراب کے ساتھ دعا کی ۔انجیل میں اس کا نقشہ خوب کھنچ کر دکھایا ہے۔پس ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی قضاء وقدر کو جو موت کے رنگ میں غشی کے ساتھ بدل اور اس کے تقویٰ کے باعث سنی گئی اور خدا نے تقدیر ٹال دی اور موت غشی سے بدل گئی۔
اصل بات یہ ہے کہ اگر عیسائیوں کے کہنے کے موافق مان لیا جاوے کی مسیحؑ صلیب پر مرگیا تو اس موت کو لعنتی ماننا پڑے گا جس کا کوئی جواب عیسائیوں کے پاس نہیں بلکہ عیسائیوں پر ایک اور مصیبت بھی آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پھر ان کو ماننا پڑیگا کہ مسیحؑ کی یہ دعا بھی جو اس نے باغ میں ساری رات رو رو کر کی تھی قبول نہیں ہوئی اور ان میں چوروں میں جو ان کے ساتھ صلیب پر لٹکائے گئے تھے کیا فرق ہوا؟انہوں نے بھی تو صلیب پر مرنے سے بچنے کے لیے دعا کی تھی اور انہوں نے بھی کی ۔نہ ان کی قبول ہوئی نہ ان کی ۔مگر ہمارا یہ مذہب نہیں ہے۔جیسے ہمارے نزدیک مسیحؑ کی موت لعنتی موت نہ تھی جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے ویسے ہی یہ بھی ہمارا اعتقاد ہے کہ ان کی دعا قبول ہوئی اور وہ صلیب پر سے زندہ اُتر آئے۔
ایک نکتہ
اصل بات یہ ہے کہ ایک باریک سر ہوتا ہے جس کو ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا۔انبیاء علیہم السلام پر اس قسم کے ابتلا اور قضاء وقدر آیا کرتے ہیں۔جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر بھی آیا اور دوسرے نبیوں پر بھی کسی نہ کسی رنگ میں آتے ہیں اور ایک تجلی ہوتی ہے جس کو دوسرے لوگ موت سمجھتے ہیں مگر یہ موت دراصل ایک زندگی کا دروازہ ہوتی ہے۔
باب الموت
صوفی کہتے ہیں کہ ہر ایک شخص کو جو خدا تعالیٰ سے ملنا چاہے ضروری ہے کہ وہ باب الموت سے گذرے۔مثنوی میں اس مقام کے بیان کرنے میں ایک قصہ نقل کیا ہے