اشرف المخلوقات ہو کر اپنی نوع انسان کے کام نہیں آتا تو پھر بدترین مخلوق ہو جاتا ہے اسی کی طرف اشارہ کرکے اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے لقد خلقنا الا نسانفی احسن تقویم۔ ثم رددنہ اسفل سافلین (التّین:۵،۶) میں۱؎ گرایا جاتا ہے پس یہ سچی بات ہے کہ اگر انسان میں یہ نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے اوامر کی اطاعت کرے اور مخلوق کو نفع پہنچاوے تو وہ جانوروں سے بھی گیا گذرا ہے اور بدترین مخلوق ہے۔ کامیابی کی موت بھی درازیٔ عمر ہے اس جگہ ایک اَور سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض لوگ جو نیک اور برگزیدہ ہوتے ہیں چھوتی عمر میں بھی اس جہان سے رخصت ہوتے ہیں۲؎ اور اس صورت میں گویا یہ قاعدہ اَور اصل ٹوٹ جاتا ہے مگر یہ ایک غلطی اور دھوکا ہے دراصل ایسا نہیں ہوتا ۔یہ قاعدہ کبھی نہیں ٹوٹتا مگر ایک اور صورت پر درازیٔ عمر کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی کا اصل منشاء اور درازیٔ عمر کی غائت تو کامیابی اور بامراد ہونا ہے ۔پس جب کوئی شخص اپنے مقاصد میں کامیاب اور بامراد ہو جاوئے اور اس کو کوئی حسرت اور آرزو باقی نہ رہے اور مرتے وقت نہایت اطمنان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو تو وہ گویا پوری عمر حاصل کرکے مرا ہے اور درازی عمر کے مقصد کو اس نے پالیاہے۔اس کو چھوٹی عمر میں مرنے والا کہنا سخت غلطی اور نادانی ہے۔ صحابہ میںبعغ ایسے تھے جنہوں نے بیس بائیس کی عمر پائی مگر چونکہ ان کو مرتے وقت کوئی حسرت اور نامرادی باقی نہ رہی بلکہ کامیاب ہو کر اُٹھے تھے اس لیے انہوں نے زندگی کا اصل منشاء حاصل کر لیا تھا۔