اور تعزیرات ہند کو موقوف کر دیا جا ئے تو کیا ایسی دوخواست منظور ہو سکتی ہے ؟کبھی نہیں ۔اس طرح پر تو اباحت کی بنیاد رکھی جاتی ہے کہ جو چاہو سو کرو۔ ۱؎؎ ایمان بارسل کی ضرورت پھر اسی خط میں ایک دوسراسوال یہ بھی تھا کہ کیوں رسول اللہ ﷺ کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی ؟اس پر فر مایا کہ:۔ رسول وہ ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات ہو تے ہیں پس جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ بہت خطرناک جرم کا مرتکن ہوتا ہے کیو نکہ وہ شریعت کے سارے سلسلہ کو باطل کرنا چاہتا ہے اور حلّت وحرمت کی قید اٹھا کر اباحت کا مسئلہ پھیلانا چاہتا ہے اور پھر رسول اللہ ﷺ کا انکار کیسے نجات کا مانع نہ ہو ؟ وہ نبی ﷺ جو لا انہتا برکات اور فیوض لے کر آیا ہے اس کا انکار ہو اور پھر نجات کی امید اس کا انکار کرنا ساری بدکاریوں اور بدمعاشیوں کو جائز سمجھنا ہے کیو نکہ وہ ان کو حرام ٹھہرا تا ہے ۔۲؎ (الحکم جلد ۷ نمبر ۳۱ صفحہ۲ مورخہ ۲۴ ؍اگست ۱۹۰۳؁ئ) ۲؍اگست ۱۹۰۳؁ء در بارِشام درازی عمرکا اصل گُر ہمارے مرم مخدوم ڈاکڑ سیّد عبدالسّتار شاہ صاحب نے اپنی رخصت کے ختم ہو نے پر عرض کی کہ مَیں صبح جاؤں گا ۔فر مایا کہ:۔