کا حکم نہیں ہوا تھا اس کی حرمت بیان نہیں کی گئی ۔ ۱؎ اسی طرح ہواکرتا ہے جب خدا تعالیٰ نے ہم پر کھول دیا ہم نے دعویٰ کردیا ۔بغیر اس کی اطلاع اور اذنکے کس طرح ہو سکتا تھا؟
پس یادرکھو کہ ہر ایک نبی کو جب تک وحی نہ ہو وہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیو نکہ ہر ایک چیز کی اصل حقیقت تو وحی الہیٰ سے ہی کُلتی ہے یہی وجہ تھی جو آنحضرت ﷺ کو ارشاد ہوا
ماکنت تدری ما الکتاب ولا الا یمان
انسان کیا بھروسہ اور امید رکھ سکتا ہے ۔بقول شخصے ؎
یعنی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی وحی آپ پر ہوئی تو پھر
وامرتان اکون من المومین(یونس:۱۰۵)
آپ کو کہنا پڑا اسی طرح آپ کے زمانہ وحی سی پیشتر مکّہ میں بُت پرستی اور شرک ،فسق وفجور ہوتا تھا لیکن کیا کو ئی بتا سکتا ہے کہ وحی الہیٰ کے آنے سے پہلے بھی آپ نے بتوں کے خلاف وعظ کیا اور تبلیغ کی تھی لیکن جب
فاصدع بما تومر (الحجر:۹۵)
کا حکم ہو اتو پھر ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں کی اور ہزاروں مشکلات اور مصائب کی بھی پروا نہیں کی بات یہی ہے کہ جب کسی امر کے متعلق وحی الہیٰ آجاتی ہے تو پھر مامور اس کے پہنچانے میں کسی کی پروا نہیں کرتے اور اس کا چپانا اسی طرح شرک سمجھتے ہیں ۔ جس طرح وحی الہٰی سے اطلاع پانے کے بغیر کسی امر کی اشاعت شرک سمجھتے ہیں اگر وہ اس بات کو جس کی اطلاع وحی الہٰی کے ذریعہ سے نہیں ملی بیان کرتا ہے تو گویا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے وہ سوجھتا ہے جو خدا تعالیٰ کو بھی نہیں سوجھتا اور اس گستاخی سے وہ مشرک ہو جاتا ہے اگر آنحضرت ﷺ وہ تمام باتیں جو قرآن شریف میں درج ہیں قرآن شریف کے نزول سے پہلے ہی بیان کر دیتے تو پھر قرآن شریف کی کیا ضرورت رہ جاتی ۔غرض جو کچھ ہم پر خدا تعالیٰ نے کھولا اور جب کھولا ہم نے بیان کردیا۔۲؎
(الحکم جلد ۷ نمبر ۳۱ صفحہ ۱۔۲ مورخہ ۲۴ ؍اگست ۱۹۰۳ئ)