اور خدا تعالیٰ کا فضل دعا سے حاصل ہوتا ہے لیکن وہ دعا جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتی ہے وہ بھی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی ۔انسان کا ذاتی اختیار نہیں کہ وہ دعا کے تمام لوازمات اور شرئط محویت،تو کل ،تبتّل ۔سوزوگداز وغیرہ کو خود بخود مہیّا کرے جب اس قسم کی دعا کی تو فیق کسی کو ملتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی جاذب ہو کر ان تمام شرائط اور لوازم کو حاصل کرتی ہے جو اعمال صالحہ کی رُوح ہیں ہمارا نجات کے متعلق یہی مذہب ہے۔ چو نکہ نجات کو ئی مصنوعی اور بناوٹی بات نہیں کہ صرف زبان سے کہہ دینا اس کے لیے کافی ہو کہ نجات ہو گئی اس لیے اسلام نے نجارت کا یہ معیار رکھا ہے کہ اس کے آثار اور علامات اسی دنیا ۱؎ میں شروع ہو جائیں اور بہشتی زندگی حاصل ہو ،لیکن یہ صرف اسلام ہی کو حاصل ہے باقی دوسرے مذاہب نے جو کچھ نجات کے متعلق بیان کیا ہے وہ یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مبطل ہے بلکہ فطرت ِانسانی کے خلاف اور عقلی طور پر بھی ایک بہیودہ امر ثابت ہو تا ہے وہ نجات ایسی ہے کہ جس کا کوئی اثر اور نمود اس دنیا میں ظاہر نہیں ہو تا ۔ اس کی مثال اس پھوڑے کی سی ہے جو باہر سے چمکتاہے اور اس کے اندر پیپ ہے۔نجات یافتہ انسان کی حالت ایسی ہونی چاہئیے کہ اس کی تبدیلی نمایاں طور پر نظر آوے اور دوسرے تسلیم کرلیں کہ واقعی اس نے نجات پالی ہے اور خدا نے اس کو قبول کر لیا ہے لیکن کیا کو ئی عیسائی جو کون مسیحؑ کو نجات کا اکیلا ذریعہ سمجھتا ہے کہہ سکتا ہے کہ اس نے نجات پالی ہے اور نجات لے آثار وعلامات اس میں پائے جاتے ہیں ۔مسیحؑ کے صلیب ملنے تک تو شائد ان کی حالت کسی قدر اچھی ہو مگر بعد میں تو ہر دوسرا دن پہلے سے بدترہوتا گیایہانتک کہ اب تو فسق وفجورکے سیلاب کا بند ٹوٹ گیا کیا یہ نجات کے آثار ہیں؟ آریوں کو بھی فضل سے کوئی تعلّق نہیں وہ تو دوست خود ودہانِ خود کے مصداق ہیں اَور ان کے پر میشر نے ابھی کچھ بھی نہیں کیا کسی کو نجات کامل ہی نہیں سکتی ۔اور وہ تمام نجات کے کیڑے علاوہ ان کیڑوں مکوڑوں کے جو مودہ ہیں سب انسان ہیں جن کا نجات حاصل نہیں ہو ئی تو بتاؤ کہ وہ اَور کسی کو کیا نجات دیگا جب اس قدر کثیر اور بے شمار تعداد بھی باقی ہے ۔ آریوں کی دعا بھی تر میم کے قابل ہے کیو نکہ ان کی مکتی سے مراد جاودانی مکتی نہیں ہو تی بلکہ ایک محدووَقت تک انسان جو نوں سے نجات پاتا ہے اور چونکہ روحیں محدو دہیں اور نئی روح پر میشر پیدا نہیں کرسکتا مجبوراً ان نجات یافتہ کو نکال دیتا ہے پس جب ان کے پر میشر نے جاودانی مکتی ہی نہیں دینی تو دعا بھی تر میم کرکے