ذریعہ بھی انسان ہلاک ہوتا ہے اور تمام باطل پرست بدظنی سے گمراہ ہوئے ہیں۔ دوسرا اصول تکبر ہے۔تکبر کرنے والا اہل حق سے الگ رہتا ہے اور اسے سعادتمندوں کی طرح اقرار کی توفیق نہیں ملتی۔ تیسرا اصول جہالت ہے یہ بھی ہلاک کرتی ہے۔ چوتھا اصول اتباع ہویٰ ہے۔ پانچواں اصول کورانہ تقلید ہے۔ غرض اسی ۱؎ طرح پر جرائم کے سات اصول ہیں یہ سب کے سب قرآن شریف سے مستنبط ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان دروازوں کا علم مجھے دیا ہے۔جو گناہ کوئی بتائے وہ ان کے نیچے آجاتا ہے۔کورانہ تقلید اور اتباع ہویٰ کے ذیل میں بہت سے گناہ آتے ہیں۔ جنت کی نعماء اسی طرح ایک دن میں نے بیان کیا کہ دوزخیوں کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ اُن کو زقوم کھانے کو ملے گا اور بہشتوں کو اس کے بالمقا بل دودھ اور شہد کی نہریں اور قسم قسم کے پھل بیان کئے گئے ہیں۔اس کا کیا سِر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں بالمقا بل بیان ہوئی ہیں۔بہشت کی نعمتوں کا ذکر ایک جگہ کرکے یہ بھی فرمایا ہے۔ کلما رزقوا منھا من ثمرۃرزقا قالوا ھٰذاالذی روزقنا من قبل واتو بہ متشابھا (البقرہ:۲۶) تو اس میں روزقنا من قبل سے مراد یہ نہیں کہ دنیا کے آم۔خربوزے اور دوسرے پھل اور دنیا کا دودھ اور شہد اُن کو یاد آجائے گا نہیں بلکہ اصل یہ ہے کہمومن جو اخلاص اور محبت کیسات خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور اس ذوق شوق سے جو لذت اُن کو محسوس ہوتی ہے وہ بہشت کی نعمتوں اور لذتوں کے حاصل ہونے پو وہ لذت اُن کو یاد آجائے گی کہ اس قسم کی لذت بخش نعمتیں ہمارے رب سے پہلے بھی ملتی رہی ہیں۔چونکہ بہشتی زندگی اسی عالم سے شروع ہوتی ہے اس لیے ان نعمتوں کا ملنا بھی یہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔چونکہ بہشت کی نعمتوں کے بارہ میں آیا ہے کہ نہ اُن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا۔تو ان دینوی پھلوں سے اُن کا رشتہ کیا ہوا ؟ ایمان اور اعمال کی مثال قرآن شریف میں درختوں سے دی گئی ہے۔ایمان کو درخت بتایا ہے اور اعمال اس کی آبپاشی کے لیے بطور نہروں کے ہیں۔جب تک اعمال سے ایمان کے پودہ کی آبپاشی نہ ہو اس وقر تک وہ شریں پھل حاصل نہیں ہوتے۔بہشتی زندگی والا انسان خدا تعالیٰ کی یاد سے ہر وقت لذت پاتا ہے اور