میں دیکھتا ہوں کہ اگر چہ ہماری جماعت تو بڑھ رہی ہے لیکن ابھی پوست ہی بڑھتا ہے اگر مغز بڑھے تو بات ہے ۔ بار بار خیال آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی کیا ہی قوت قدسیہ ہے کہ آپ پر ایمان لا کر صحابہ کرام ؓ نے ایک دفعہ ہی دنیا کا فیصلہ کر دیا ۔جان سے بڑھ کر کیا شئے ہو تی ہے اپنے خون سے دین پر مہر یں لگا دیں اب لوگ بیعت کرتے ہیں تو دیکھا جاتا ہے کہ ساتھ ہی مخفی اغراض دنیا کے بھی لاتے ہیں کہ فلاں کام دنیا کا ہو جاوے ۔یہ ہو جاوے ۔یہ سچ ہے کہ جو مومن ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ ہر ایک مشکل اس کی آسان کر دیتا ہے مگر سب سے اول معرفت ضروری ہے پھر خدا تعالیٰ خود اس کی ہر ایک ضرورت کا کفیل ہو گا۔ (البدر۲ؔ جلدنمبر۲۹ صفحہ ۲۶۲ مورخہ ۷؍اگست۱۹۰۳؁ئ) ۲۶؍جولائی ۱۹۰۳؁ء مسیح مُوعود کے زمانہ میں درازیٔ عمر کا راز احادیث میں جو آیا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں عمریں لمبی ہو جائیں گی ۔اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ موت کا دروازہ بالکل بند ہو جائے گا اور کوئی شخص نہیں مرے گا ۔بلکہ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ جو لوگ مالی ،جانی نصرت میں اس کے مخلص احباب ہوں گے ۔اور خدمت دین میں لگے ہو ئے ہوں گے ۔اُن کی عمریں درازکردی جائیں گی ۔اس واسطے کہ وہ لوگ نفع رساں وجود ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے واماماینفع الناس فیمکث فی الارض(الرعد:۱۸) یہ امر قانون ِقدرت کے موافق ہے کہ عمریں درازکر دی جائیں گے ۔اس زمانہ کو جو دراز کیا ہے یہ بھی اس کی رحمت ہے اور اس میں کوئی خاص مصلحت ہے ۔ (اس پر حضرت حکیم الامت نے عرض کیا کہ مسلمانوں میں سب سے پہلا مجددعمربن عبد العزیز کو تسلیم