تو جائز نہیں لیکن جو جانور بیع وشریٰ میں آجاتے ہیں اس کی حلّت ہی سمجھی جاتی ہے زیادہ تفشیش کی کیا ضرورت ہو تی ہے ۔ ۱؎ دیکھو حلوائی وغیر ہ بعض اوقات ایسی حرکات کرتے ہیں کہ ان کا ذکر بھی کراہت اور نفرت پیدا کرتا ہے لیکن ان کی نبی ہو ئی چیزیں آخر کھاتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ شیرنییاں تیار کرتے ہیں اور میلی کچیلی دھوتی میں بھی ہاتھ مارتے جاتے ہیں۔اور جب کھانڈتیار کرتے ہیں تو اس کو پاؤں سے ملتے ہیں چوڑھے چمار گڑوغیرہ بناتے ہیں اور بعض اوقات جوٹھے رس وغیرہ ڈال دیتے ہیں اور خدا جانے کیا کیا کرتے ہیں ان سب کو استعمال کیا جاتا ہے اس طرح پر اگر تشدّد ہو تو سب حرام ہو جاویں اسلام نے مالا یطاق تکلیف نہیں رکھی ہے بلکہ شریعت کی بنا نرمی پر ہے ۔
اس کے بعد سائل مذکور نے پھر اسی سوال کی اَور باریک جزئیات پر سوال شروع کئے فرمایا :۔
اللہ تعالیٰ
ا تسئلوعن اشیاء (المائدت:۱۰۲)
بھی فرمایا ہے بہت کھودنا اچھا نہیں۔
متقیوں کو اللہ تعالیٰ ابتلاؤں سے بچاتا ہے َ
اللہ تعالیٰ نے وعدہ فر مایا ہے کہ وہ متقی کو ایسی مشکلات میں نہیں ڈالتا ۔ ۲؎
الخبثت للخبیثن اور والطیبت للطیبین(النور :۲۷)
اس سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ متقیوں کو اللہ تعالیٰ خود پاک چیزیں بہم پہنچاتا ہے اور خبیث چیزیں خبیث لو گوںکے لیے ہیں اگر انسان تقویٰ اختیار کرے اور باطنی طہارت اور پاکیزگی حاصل کرے جو اللہ تعا لیٰ کی نگاہ میں پاکیزگی ہے ۔تو وہ ایسے ابتلاؤں سے بچا لیا جاویگا۔ ایک بزرگ کی کسی بادشاہ نے دعوت کی اور بکر ی کا گوشت بھی پکایا اور خنزیر کا بھی ۔اور جب کھانا کھا گیا تو عمداً سئور کا گوشت اس بزرگ کے سامنے رکھ دیا اور بکری کا اپنے دوستوں کے آگے ۔جب کھانا رکھا گیا اور کہا کہ شروع کرو ۔تو اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ پر بذرہعی کشف اصل حال کھول دیا انہوں نے کہا ٹھہرو تقسیم ٹھیک نہیں اور یہ کہہ ر اپنے آگے کی رکا بیاں ان کے آگے اور ان کی آگے کی اپنے آگے رکھتے جاتے تھے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھے کہ
الخبیثت للخبیثین ۔الایت۔