۲۱؍جولائی ۱۹۰۳ئ؁ ایک استفسار اور اس کا جواب ایک شخص نے سوال کیا کہ ریلی برادرس وغیرہ کارخانوں میں سرکاری سیز ۷۰ روپے کا دیتے ہیں اور لیتے ۸۱روپے کا ہیں۔کیا یہ جائز ہے؟فرمایا:۔جن معاملات میںبیع وشریٰ میں مقدمات نہ ہوں۔فساد نہ ہوں۔تراضی فریقین ہو اور سر کار نے بھی جرم نہ رکھاہو۔عرف میں جائز ہو۔وہ جائز ہے۔ ہدایت کے مختلف ذرائع مامور جب دنیا میں اصلاح اور اشاعت ہدایت کے لیے آتے ہیں تو وہ ہر طرح سے سمجھاتے ہیں۔آخری علاج اور راہ سختی بھی ہے۔دنیا میں بھی یہی طریق جاری ہے کہ ابتداًء واولاً برمی کے ساتھ اسمجھایا جا تا ہے۔پھر اس کی خوبیاں اور مفاد بتا کر شوق دلایا جاتا ہے۔آخر جب کسی طرح نہیں مانتے تو سختی ہوتی ہے۔جیسے ماں ایک وقت بچہ کو مار سے ڈراتی ہے۔آنحضرتﷺ نے جس قدر طریق عقل تبلیغ اور ہدایت کی تجویز کرسکتی ہے۔اختیار کئے۔یعنی اول ہر قسم کی نرمی سے،رفق،صبر اور اخلاق سے،عقلی دلائل اور معجزات سے کام لیا اور آخر الامر جب ان لوگوں کی شرارتیں اور سختیاں حدسے گذر گئیں تو اللہ تعالیٰ نے پھر اسی رنگ میں ان پرحجت پوری کی اور سختی سے کام لیا ۔یہی حال اب ہو رہا ہے۔خدا تعالیٰ نے دلائل سے سمجھایا۔نشانات دکھائے اور آخر اب طاعون کے ذریعہ متوجہ کررہا ہے اور ایک جماعت کو اس طرف لا رہا ہے۔ فرمایا:۔ سورۃ فاتحہ میں جواللہ تعالیٰ کی صفات اربعہ بیان ہوئی ہیں آنحضرت ﷺان چاروں صفات کے مظہر کامل تھے۔مثلاً پہلی صفت رب العالمین ہے۔آنحضرتﷺ اس کے بھی مظہر ہوئے۔جبکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ماارسلنک الا رحمۃ للعلمین(النبیائ:۱۰۸) جیسے رب العالمین عام ربوبیت کو چاہت تھا۔اسی طرح آنحضرتﷺ کے فیوض وبرکات اور آپ کی ہدایت و تبلیغ کل دنیا اور کل عالموں کے لیے قرار پائی۔ پھر دوسری صفت رحمٰن کی ہے۔ آنحضرت ﷺ اس صفت کے بھی کامل مظہر ٹھہر ے کیو نکہ آپ کے فیوض وبرکت کا کوئی بدل اور اجر نہیں ۔ مااسئلکم علیہ من اجر(الفرقان :۵۸) پھر آپ رحیمیت کے مظہر ہیں آپؐ نے اور آپؐ کے صحابہؓ نے جو مخیتں اسلام کے لیے کیں اوران خدمات میں جو تکالیف