اس کی اولاد بے رزق ہو۔
پھر دوسری جگہ فرماتا ہے
واذا قال موسیٰ لفتہ لا ابرح حتٰ (الکھف:۶۱)
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دفع حضرت موسیٰؑ وعظ فرما رہے تھے کسنے پوچھا کہ آپ سے کوئی اور بھی علم میں زیادہ ہے تو انہوں نے کہاکہ مجھے معلوم نہیں۔اللہ تعلیٰ کو ان کی یہ بات پسند نہ آئی (یعنی یوں کہتے کہ خدا کے بندے بہت سے ہیں جو ایک سے ایک علم میں زیادہ ہیں)اور حکم ہوا کہ تم فلاں طرف چلے جائو جہاں تمہاری مچھلی زندہ ہو جاوے گی وہاں تم کو ایک علم والا شخص ملے گا۔پس جب وہ ادھر گئے تو ایک جگہ مچھلی بھول گئے۔جب دوبارہ تلاش کرنے آئے تو معلوم ہوا کہ مچھلی وہاں نہیں ہے ۔وہاں ٹھہرگئے تو ایک ہمارے بندے سے ملاقات ہوئی۔اس کو موسیٰ نے کہا کہ مجھے اجازت ہے کہ آپ کے ساتھ علم اور معرفت سیکھوں؟اس بزرگ نے کہا کہ اجازت دیتا ہوں مگر آپ بد گمانی سے بچ نہیں سکیں گے کیونکہ جس بات کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی اور سمجھ نہیں دی جاتی تو اس پر صبر کرنا مشکل ہوتا ہے۔کیونکہ جب دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص ایک موقعہ پر بے محل کام کرتا ہے تو اکثر بد ظنی ہوجاتی ہے۔پس موسیٰ نے کہا کہ میں کوئی بد ظنی نہین کرو گا اور آپ کا ساتھ دوں گا۔اس نے کہا کہ اگر تو میرے ساتھ چلیگا تو مجھ سے کسی بات کا سوال نہ کرنا۔پس جب چلے تو ایک کشتی پر جا کر سوار ہوئے۔(یہاں پر حضرت اقدس علیہ السلام نے حضرت موسیٰ کا وہ تمام قصہ ذکر کیا جو کہ سورہ کہف میں مذکور ہے۔پھر اس دیوار کے خزانہ کی نسبت فرمایا کہ)اس کو اس واسطے درست کردیا کہ وہ و یتیم بچوں کے کام آوے۔اس واسطے یہ کام کیا۔معلوم ہوتا ہے کہ ن بچوں نے کوئی نیک کام نہ کیا تھا مگر ان کے باپ کے نیک بخت اور صالح ہونے کے باعث خدا تعالیٰ نے ان بچوں کی خبر گیری کی۔
دیکھو کہاں یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے واسطے اس کی اولاد کا اس قدر خیال رکھا اور کہاں یہ کہ انسان غرق ہوتا چلا جاتا ہے اور تباہ ہوتا چلا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ پرواہ نہیں کرتا۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے ہر حال میں تعلق رکھتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ ان کو غایع ہونے سے بچا لیتا ہے۔دیکھو ایک انسان کے دن بر گشتہ ہیں۔کام اس کے خراب ہیں مگر خدا تعالیٰ رحم نہیں کرتا۔تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ قابل رحم ہی نہیں ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو انسان پر بڑا رحم ہے۔ہزاروں گناہ بخشتا ہے۔جب انسان بہت تولق خدا تعالیٰ کے ساتھ پیدا کرتا ہے اور سب طرح سے اسی کا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اعمل ماشئت فانی غفرت لک
یعنی جو تیری مرضی ہو کئے جا میں نے تجھے سب کچھ بخش دیا۔پیغمبر خدا ﷺفرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا
اعملوا ماشئتم (حٰمٰ السجدہ:۴۱)
یعنی جو چاہو سو کئے جائو۔پس یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تو بڑا مہر بان اور رحیم ہے