جب تک دنیا ان کے ساتھ ہے تب تک تو سب سے خوشی سے بولتے ہیں بیوی سے بھی خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیںمگر جس دن دنیا گئی تو سب سے ناراض ہیں منہ سوجا ہوا ہے ہر ایک سے لڑائی ہے گلہ ہے شکو ہ ہے حتیٰ کہ خدا تعالیٰ بھی ناراض ہیںتو پھر خدا تعالیٰ ان سب سے کیسے راضی رہے وہ بھی پھر ناراض ہو جاتا ہے۔ مگر بڑی بشارت مومن کو ہے ۔ یا یتھا الفس المطمئنت اعی الی ربک راضیت مرضیت (الفجر :۲۸،۲۹) اے نفس جو کہ خدا تعالیٰ سے آرام یافتہ ہے تو اپنے ربّ کی طرف راضی خوشی واپس آ۔اس خوشی میں ایک کافر ہر گز شریک نہیں ہے ۔راضیت کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنی مرادات کو ئی نہیں رکھتا کیو نکہ اگر وہ دنیا سے خلافِ مرادات جاوے تو پھر راضی تو نہ گیا اس لیے اس کی تمام مراد خدا ہی ہو تا ہے اس کے مصداق صرف آنحضرت ﷺ ہی ہیں کہ آپ کو یہ بشارت ملی ۔ اذجا ئنصراللہ والفتح(النصر:۲) اور الیوم الملت لکم دینکم (المائدت:۴) بلکہ مومن کی خلاف مرضی تو اس کی نزع (جان کنی ) بھی نہیں ہو اکرتی ایک شخص کا قصہ لکھا ہے کہ وہدعا کیا کرتا تھا کہ مَیں طوس میں مروں ،لیکن ایک دفعہ وہ ایک اَور مقام پر تھا کہ سخت بیمار ہوااور کوئی امیدزیست کی نہ ہورہی تواس نے وصیت کی کہاگر مَیں مر جاؤں تو مجھے یہودیوںکے قبرستان میں دفن کرنا اسی وقت سے وہ روبصحت ہو ناشروع ہو گیا حتیٰ کہ بالکل تندرست ہو گیا لوگوں نے اس کی وصیت کی وجہ پوچھی تو کہا کہ مومن کی علامت ایک یہ بھی ہے کہ اس کی دعا قبول ہو ۔ اعونی استجب لکم(المومن :۶۱) خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے میری دعا تھی کہ طوس میں مروں جب دیکھا کہ موت تو یہاں آتی ہے تو اپنے مومن ہو نے پر،جھے شک ہوا اس لیے مَیں نے یہ وصیت کی کہ اہل اسلام کو دھوکا نہ دوں غرضیکہ راضیت مرضیت صرف مومنوں کے لیے ہے دنیا میں بڑے بڑے مالداروں کی موت سخت نامرادی سے ہوتی ہے دنیا دار کی موت کے وقت ایک خواہش پیدا ہو تی ہے اور اسی وقت اسے نزع ہو تی ہے یہ اس لیے ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے کہ اسوقت بھی اسے عذاب دیوے اور اس کی حسرت کے اسباب پیداہو جاتے ہیں تاکہ انبیاء کی موت کو کہ راضیت مرضیت کی مصداق ہوتی ہے اس میں اور دنیا دار کی موت میں ایک میّن فرق ہو ۔دنیا دار کتنی ہی کو شش کرے گا مگر اس کی موت کے وقت حسرت کے اسباب دور ہو کر اس کی جان نکلتی ہے ۔راضی کا لفظ بہت عمدہ ہے اور ایک مومن کی مرادیں اصل میں دین کے لیے ہواکرتی ہیں خدا تعالیٰ کی کامیابی اور اس کے دین کی کامیابی اس کااصل مدّعا ہوا کرتا ہے ۔آنحضرت ﷺ کی ذات بہت ہی اعلیٰ ہے کہ جن کو اس قسم کی موت نصیب ہوئی ۔ (البدرؔ جلد۲ نمبر۲۸ صفحہ ۲۱۸ مورخہ ۳۱؍جولائی۱۹۰۳؁ئ)