رہے تھے ؟کہا کہ خدا تعالیٰ کو عاجزی پسند ہے اس عاسطے مَیں نے سوچا کہ اس طرح میری عاجزی منظور ہو جاوے گی۔ حضرت ابرہیم ؑ نے اپنے لڑکے کے واسطے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے اسی طرح انسان کو چاہئیے کہ دعا کرے بہت سے شخص ایسے ہو تے ہیں کہ کسی گناہ سے نہیں بچتے ،لیکن اگر ان کو کوئی شخص بے ایمان یا کچھ اَور کہہ دیوے تو بڑے جوش میں آتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو کو ئی گناہ نہیں کرتے پھر ہم کو یہ کیوں کہتا ہے اس طرح انسان کو معلوم نہیں کہ کیا کیا گناہ اس سے سرزد ہو تے ہیں پس اس کو کیا خبر ہے کہ کیا کچھ لکھا ہوا ہہے پس انسان کو چاہئیے کہ اپنے عیبوں کو شمار کرے اور دعا کرے پھر اللہ تعالیٰ بچاوے تو بچ سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دعا کرومَیں مانوں گا۔ ادعونی استجب لکم(المومن:۶۱) دعا اور صحبت صالحین دو چیزیں ہیں ایک تو دعا کرنی چاہئیے۔دوسرا طریق یہ ہے ۔ کونوا مع الصادقینَ۔ راست بازوں کی صحبت میں رہو تا کہ انکی صحبت میں رہ کر کے تم کو پتہ لگ جاوے کہ تمہارا قادر ہے بینا ہے ۔سُننے والا ہے ۔دعائیں قبول کرتا ہے اور اپنی رحمت سے بندوں کو صدہانعمتیںدیتا ہے جو لوگ ہرروز نئے گناہ کرتے ہیں وہ گناہ کو حلوے کی طرح شیریں خیال کرتے ہیں ان کو خبر نہیں کہ یہ زہر ہے کیو نکہ کو ئی شخص سنکھیا جان کر نہیں کھا سکتا کو ئی شخص بجلی کے نیچے نہیں کھڑا ہوتا اور کوئی شخص سانپ کے سوارخ میں ہاتھ نہیں ڈالتا اور کوئی شخص کھا نا شکی نہیں کھا سکتا اگرچہ اس کو کوئی دعچار روپے بھی دے پھر بووجود اس بات کے جو گناہ کرتا ہے کیا اس کو خبر نہیں ہے پھر کیوں کرتا ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کا دل مضریقین بنہیں کرتا اس واسطے ضرور ہے کہ آدمی پہلے یقین حاصل کرے جب تک یقین نہیں غور نہیں ہویگا اور کچھ نہ پائے گا بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے پیغمبروں کا زمانہ بھی دیکھ کر ان کو ایمان نہ آیا اس کی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے غور نہیں کی ۔دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وماکنا معد بین حتی نبعث رسولا (نبی اسرائیل:۱۶) ہم عذاب نہیں کیا کرتے جب تک کو ئی رسول نہ بھیج دیویں اور واذااردنا ان نھلک قریت امرنا مترفیھا ففسقوافیھا فحق علیھا القول فد مرنھا تدمیراً(نبی اسرائیل :۱۷) پہلے امراء کو اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے واایسے افعال کرتے ہیں کہ آخراُن کی پاداش میں ہلاک ہو جاتے ہیں غرضیکہ ان باتوں کودیا رکھو اور اولاد کی تربیت کرو۔ زمانہ کرو۔ کسی شخص کا خون نہ کرو۔اللہ تعالیٰ نے ساری عبادتیں ایسی رکھی ہیں جو بہت عمدہ زندگی تک پہنچاتی ہیں عہد کرو اور عہد کو پورا کرو اگر تکبر کروگی تو تم کو خدا ذلیل کریگا ۔یہ ساری باتیں بُری ہیں ۔ (البدرؔجلد۲نمبر۲۸صفحہ ۲۱۷۔۲۱۸مورخہ۳۱؍جولائی۱۹۰۳ئ؁)