ہو گئیں ۔ اور حضرت ایوبؑ نے صبر کیا پھر خدا تعالیٰ نے فرمایا تو شیطان نے جواب دیا کہ اس کے پاس فرزند بہتیرے ہیں دل میں جانتا ہے کہ کیا ہوا یہ جیتے ہیں تو بہت سامال اکٹھا ہو جاوے گا خدا تعالیٰ نے اس کے فرزند وںکو بھی وفات دے دی پھر شیطان نے کہا کہ خدا یا اس کی تندستی بہت ہے اس کو کی بدولت سب کچھ مل سکتا ہیآخر یہ ہوا کہ نہایت بیمار ہو گئے اور تندرستی بھی جائی رہی مگر صبر کیا اور پھر خدا تعالیٰ نے شیطان سے کہا کہ میرا بندہ کیسا صابر ہے شیطان چُپ ساہو گیا مگر ان کی بیوی جو ہمیشہ کھا نا پکایا کرتی تھی شیطان اس کو راستے میں ملا اور ایک بڈھی کی شکل میںاس سے کہا کہ تیرا خاوند ایسا ہے ایسا ہے تو اس کی کیوں خدمت کرتی ہے اس نے یہ بات حضرت ایوبؑ سے کہی انہوں نے کہا کہ وہ تو شیطان تھا تو نے اس کی بات کیوں میرے پاس کہی مَیں اچھا ہو کر تجُھ کو سَو بید ماروں گا پھر خدا تعالیٰ کی رحمت ہو ئی تو ایوب علیہ السلام کے پاس فرشتہ آیا اور اپنے پاؤں مار کر ایک چشمہ نکالا اس میں نہانے کے واسطے کہا حضرت ایوبؑ اس میں نہا کر اچھے ہو گئے اور پھر بیوی کی طرف متوجہ ہو ئے تو چونکہ آپ نے قسم کھائی تھی اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ بیوی تمہاری بے قصور ہے صرف ایک جھاڑو بجائے َسوبیدکے بدن سے چھو دوتا کہ قسم جھوٹی نہ ہووے ۔ اب دیکھو کہ کتنا صابر ہو نا ان کا ثابت ہوا ان کا قصہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں باوجود کی صدہا سال گذرگئے تھے نقل کیا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے ۔ ولنبلا نکم بشیی ء من الخوف الکوع ونقص من الاموال والا نفس والثمرات۔۔۔۔۔۔(البقرت :۱۵۶) کبھی ہم تم کو نہایت فقروفاقہ سے آزمائیں گے اور کبھی تمہارے بچے مرجاویں گے تو جو لوگ مومن ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا ہی مال تھا ہم بھی تو اسی کے ہیں پس خدا تعالیٰ فر ماتا ہے کہ انہی لوگوں نے صبر کرتے ہیں میرے مطلب کو سمجھاہے ان پر میری رحمتیں ہیں جن کا کوئی حدوحساب نہیں تو دیکھوکہ یہ باتیں ہیں ان پر عمل کرنا چاہئیے غریب آدمی کے ساتھ تکبّر کے ساتھ پیش نہیں آنا چاہئیے ۔ (البدرؔجلد۲نمبر۲۷صفحہ ۲۱۰۔۲۱۱مورخہ۲۴؍جولائی۱۹۰۳ئ؁) نیز (الحکم ؔجلد۷نمبر۲۶صفحہ ۱۵۔۱۶مورخہ۱۷؍جولائی۱۹۰۳ئ؁) مجلس قبل ازعشاء ارتدادعن الاسلام کا ذکر عبد الغفور نامی ایک شخص کے آریہ مذہب اختیار کرنے پر فر مایا کہ:۔ اس طرح کے ارتدادا سلام کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا ۔یکجائی نظر سے دیکھنا چاہئیے کہ آیا اسلام ترقی کررہا ہے یا تنزّل ۔آنحضرت ﷺ کے وقت جو بعض لوگ مرتد ہو جا تے تھے تو کیا ان سب سے اسلام