صاف کرنے لگے۔وہ عیسائی جبکہ ایک کوس نکل گیا تو اس کو یاد آیا کہ اس کے پاس جو سونے کی صلیب تھی وہ چارپائی پر بھول آیا ہوں۔اس لیے وہ واپس آیا تو دیکھا کہ حضرت اس کے پاخانہ کو رضائی پر سے خود صاف کر رہے ہیں۔اس کو ندامت آئی اور کہا کہ اگر میرے پاس یہ ہوتی تو میں کبھی اس کو نہ دھوتا۔اس سے معلوم ہوا کہ ایسا شخص کہ جس میں اتنی بے نفسی ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔پھر وہ مسلمان ہوگیا۔ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ جب لڑکوں کی طرف راستہ میں دیکھا کرتے تھے تو اتنی شفقت کیا کرتے تھے کہ وہ لڑکے سمجھا کرتے کہ یہ ہمارا باپ ہے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فر ماتا ہے کہ جو عورتیں کسی اَور قسم کی ہوںان کودوسری عورتیں حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں اور نہ مرد ایسا کریں کیو نکہ یہ دل دُکھا نے والی بات ہے ورنہ اللہ تعالیٰ اس سے مواخذہ کرے گا یہ بہت بر ی خصلت ہے یہ ٹھٹھا کر نا اللہ تعالیٰ کو بہت بُرا معلوم ہو تا ہے ۔ لیکن اگر کو ئی ایسی بات ہو جس سے دل نہ دُکھے وہ بات جائز رکھی ہے جہاں تک ہو سکے ان باتوں سے پر ہیز کرے اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے کہ عمل والے کو مَیں کس طرح جز ادوں گا ۔ ناما من طغی ۔واثر الحیوت الدنیا۔ فان الجحیم ھی الماوی (النا زعات :۳۸تا ۴۰) جو شخص میرے حکموں کو نہیں مانے گا مَیں اس کوبہت بُری طرح سے جہنّم میں ڈالوں گا اور ایسا ہو گا کہ آخر جہنّم تمہاری جگہ ہو گی ۔ واما من خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھوی ۔فان الجنت ھی الماوی (النازعات :۴۱،۴۲) اور جوشخص میری عدالت کے تخت کے سامنے کھڑاہونے سے ڈرے گا اور خیال رکھے گا تو خدا تعالیٰ فر مایا ہے کہ مَیں اس کا ٹھکا نا جنت میں کروں گا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے کہ عبس وتولیٰ۔ان جائہ الاعمی ۔ومایدربک لعلہ یذکی اویذکرفتنفعہ الذکری ُ(عبس ۲تا ۵۶) اس سورت کے نازل ہو نے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت کے پاس چند قریش کے بڑے بڑے آدمی بیٹھے تھے آپ ان کو نصیحت کر رہے تھے کہ ایک اندھا آگیا ۔اس نے کہا کہ مجھ کو دین کے مسائل بتلا دو۔حضرت نے فر مایا کہ صبر کرو اس پر خدا تعالیٰ نے بہت غصہ کیا آخر آپ اس کے گھر گئے اور اسے بُلا کر لائے اور چادربچھا دی اور کہا کہ تو بیڑھ اس اندھے نے کہا کہ مَیں آپ کی چادر پر کیسے بیٹھوں ؟آپ نے وہ چادر کیوں بچھا ئی تھی ؟اس واسطے کہ خدا تعالیٰ کو راضی کریں ۔تکبر اورشرارت بُری بات ہے ایک ذراسی بات سے ستّر برس کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں لکھا ہے کہ ایک شخص عابد تھا وہ پہاڑ پر رہا کرتا تھا اور مدّت سے وہاں بارش نہ ہو ئی تھی ایک روزبارش ہو ئی تو پتھروں پراور روڑیوں پر بھی ہو ئی تو اس کے دل میں اعتراض پیدا ہو اکہ ضرورت تو بارش کی کھیتوں اور باغات کے واسطے ہے یہ کیا بات ہے کہ پتھروں پرہوئی ۔یہی بارش کھیتوںپر ہوتی تو کیا اچھا ہو تا اس پر خدا تعالیٰ نے اسس کا سارا ولی پُنا چھین لیا آخر وہ بہت ساغمگین ہوا اور کسی اَور بزرگ سے استمداد کی توآخر اس کوپیغام آیا کہ