۱۲؍ جو لائی ۰۳ ۱۹؁ء بعد نماز ِعصر خواتیں کو نصائح جو کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے ۱۲؍ جو لائی ۰۳ ۱۹؁ء کو اندرون خانہ بوقت بین العصر والمغرب فر مایا تھا اور دروازہ سے باہر دیوار کی اوٹ میں کھڑے ہو کر قلمبند کیا گیا ۔چو نکہ اکثر بچگا ن بھی عورتوں کے ہمراہ تھے جو اکثر شورکر کے سلسلہ تسامع کا توڑ دیتے تھے اس لیے جہاں تک بشریت کی استعد اد نے موقعہ دیا ۔اس کو بلفظہ نوٹ کیا گیا ہے ۔ (ایڈٹیر) اگر چہ آنحضرت ﷺ کی بیویوں سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا ہے مگر تا ہم آپ کی نیویاں سب کا م کر لیا کرتی تھیں جھاڑو بھی دے لیا کرتی تھیں اور ساتھ اس کیعبادت بھی کرتی تھیں ۔چنانچہ ایک بیوی نے اپنی حفاظت کے واسطے ایک رسّہ لٹکا رکھا تھا کہ عبادت میں اُونگھ نہ آئے عورتوں کے لیے ٹکڑا عبادت کا خاوندوں کا حق ادا کرنا ہے اور ایک ڑکڑا عبادت کا خدا کا شکر بجالا نا ہے خدا کا شکر کر نا اورخدا کی تعریف کرنی یہ بھی عبادت ہے دوسرا ٹکڑا عبادت کا نماز کو ادا کرنا ہے ۔ کو ئی شخص نواب تھا صبح کو نماز کے لیے نہیں اُٹھتا تھا ایک مولوی نے اسے وعظ سنایا اس پر نواب نے اپنے خادم کو کہا کہ مجھ کو صبح کو اُٹھا دینا خادم نے دو تین مرتبہ اس کو جگا یا جب ایک مرتبہ جگایا تو اس نے دوسری طرف کروٹ بدل لی جب دوبارہ اس طرف ہو کر جگا یا پھر اَور طرف ہو گیا جب تیسری مرتبہ جگا یا تو اس نے اُٹھ کر اس کو خوب مارا اور کہا کہ کم بخت جب ایک مرتبہ نہیں اُٹھا تو تجھے معلوم نہ ہوا کہ ابھی نہ اُٹھوں گا پھر کیوں جگایا ؟اور اتنا مارا کہ وہ بچار بہیوش ہو گیا ۔آپ ہی نے تو مولوی سے وعظ سنکر اس کو کہا تھا کہ مجھ کو اُٹھا دینا پھر جب اس نے جگا یا تو اس بچارے کی شامت آئی اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کے پاس بہت ساحصہ جا گیر کا ہوتا ہے وہ ایسے غافل ہو جا تے ہیں کہ حْ اللہ کا ان کا خیال نہیں آتا امراء میں بہت سا حصہ تکبر کا ہو تا ہے جس کی وجہ سے عبادت نہیں کر سکتے ۔اور نہ دوسرا حصّہ خلقت کی خدمت کاان سے ادا ہو تا ہے خلقت کی خدمت کا یہ حال ہے کہ اگر کو ئی غریب آدمی سالم کرتا ہے تو بھی برا ناتے ہیں ایسا ہی عورتوں کا حال ہے کو ئی چھوٹی عورت آوے تو چاہئیے کہ بڑی کو سلام کرے یہ دوٹکڑے شریعت کے ہیں حق اللہ اور حق لعباد آنحضرت ﷺ کی طرف دیکھو کہ کس قدر خدمات میں عمر کو گذارا۔ اور حضرت علیؓ کی حالت کو دیکھو کہ اتنے پیوند لگا ئے کہ جگہ نہ رہی ۔حضرت ابوبکرؓ نے ایک بڑھیا کو ہمیشہ حلوہ کھلانا وطیرہ کر رکھا تھا غور کرو کہ یہ کس قدر التزام تھا۔