کیا ہو رہا ہے۔نماز روزہ وغیرہ سب لحاظ داری ہے۔حقیقی نیکی کو لوگ جانتے نہیں کہ کیا شئے ہے۔خدا کے خوف سے کسی شئے کو ترک کرنا یا لینا بالکل جاتا رہا ہے۔غرضیکہ اس وقت بڑی بحث آ پڑی ہے۔اگر خدا تعالیٰ مدد نہ کرے اور نشانات نہ دکھلائے تو پھر دہریہ کو فتح حاصل ہوتی ہے اور اس وقت صرف اس کی ہستی کا ثبوت ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کی غیرت کے ثبوت کی بھی ضرورت ہے۔بعض لوگ تو گاڈ کہہ رہے ہیں بعض اس کے لیے ایک بیٹا تجویز کررہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے وقت بھی ایسی ضرورت آپڑی تھی۔اس لیے آنحضرتﷺ نے جنگ کے وقت کہا کہ اگر تو اس جماعت کو ہلاک کردیگا تو پھر تیری پرستش کرنے والا دنیا میں کوئی نہ رہے گا۔یہی حال اس وقت ہے۔پس اگر مہدی اور مسیحؑ کا یہ زمانہ نہیں تو اور کس وقت کا انتظار ہے۔آنے والے نے تو صدی کے سر پر آنا تھا۔اب بیس سال سے بھی زیادہ گذر گئے۔زمانہ کی موجودہ حالت سے پتہ لگتا ہے کہ اب آخری فیصلہ خدا تعالیٰ کا ہے۔ (البدر جلد۲ نمبر۲۶صفحہ ۲۰۳،۲۰۴مورخہ۱۷؍جولائی۱۹۰۳ئ؁) ۱۱؍جولائی ۱۹۰۳ئ؁ دربار شام تمباکو ؎عیب مے جملہ بگفتی ہنر ش نیز بگو تمباکو کے مضرات پر ایک مختصر مضمون پڑھا گیا۔ ۱؎ جس میں کل امراض کو تمباکو کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا اور تمباکو کی مذمت میں بہت مبالغہ کیا گیا تھا۔اس کو منکر حضرت حجتہ اللہ نے فرمایا کہ:۔ اللہ تعالیٰ کے کلام اور مخلوق کے کلام میں کس قدر فرق ہوتاہے ۲؎ شراب کے مضار اگر بیان کئے ہیں تو اس کا نفع بھی بتادیا ہے۔اور پھر اسکو روکنے کے لیے یہ فیصلہ کردیا کہ اس کے ضرر نفع سے بڑھ کر ہے۔دراصل کوئی چیز ایسی نہیں جس میں کوئی نہ کوئی نفع نہ ہو مگر مخلوق کے کلام کی یہی حالت ہوتی ہے۔اب دیکھ لو۔