ہے اس لیے آپ کی عصمت کا یہ ایک بڑا ثبوت ملتا ہے۔جیسے طبیب اُسے کہتے ہیں جو علاج کرکے مریض کا اچھا کرکے دکھلا دیوے ویسے ہی
لا الہٰ الا اللہ
سے ہر ایک روحانی مرض کا علاج کرکے آپ نے دکھلایا۔اور ایسی لیے دوسری تمام نبوتیں آنحضرت ﷺ کا سایہ ہی معلوم ہوتی ہیں۔
ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
الیوم یئِس الذین کفروا(المائدہ:۴)
آجکافر نااُمید ہوگئے گویا آپ کو کامیابی کے اس اعلٰی نقطہ تک پہنچا دیا کہ کافر نامراد ہوگئے ۔ کیا انجیل میں اس کے مقابل کوئی آیت ہے ہرگزنہیں ۔ مسیح علیہ السلام کو تو فقط ایک یہودی کی اصلاح سپرد تھی اور یہ کوئی مشکل کام نہ تھا مگر ضعف ۱؎ کی بات ہے کہ کوئی بات بھی پوری نہ ہوئی ۔ اوّل اس کو بادشاہت کا وعدہ دیا کہ وہ آسمانی بادشاہت ہے ۔ ایلیا کی بات پیش کی تو وہ ایسی کہ خود یحییٰ نے ایلیا ہونے سے انکار کیا ۔
آنحضرتﷺ اور مسیح علیہ اسلام کا مقابلہ
پھر دیکھئے کی ؑ کی گرفتاری کے لیے آدمی آگئے ۔ دو گھنٹہ کے اندر ہی اندر آپ کو گرفتار کر لیا اور گرفتا ر کرنے والوں کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے اور آنحضرت ﷺ کی گرفتاری کے لیے کسریٰ کے سپاہی آئے تو آنحضرت ﷺ نے اس کے سامنے اسلام پیش کیا اور پھر دوسرے دن صبح کو آپ اُن کو جواب دیتے ہیں کہ آج تمارا خداوند مارا گیا اور میرے خدانے اس کے لیے ۲؎ شیروَیہ کو اس پر مسلّط کر دیا ۔
اب دونو نبیوں کا مقابلہ کرلو ۔ جیسے آنحضرت ﷺ کی دُعا سے کسریٰ ہلاک ہوگیا ۔ اس طرح لازم تھا کہ مسیح کی گرفتاری کے وقت کم از کم موٹے موٹے چھ سات آدمی مارے جاتے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا سے خدا کا ارادہ تھا کی آنحضرت ﷺ کا رُعب جمایا جاوے گا ۔
ایک آدمی کے دو خدمت گارہوں کہ ایک تو رات دن خدمت کرتاہے اور تنخواہ بھی لیتا ہے مگر گالی گلوچ بھی کھاتا ہے اور اَور مکروہات بھی دیکھتا ہے ۔ ایک اَور ہے کہ بظاہر کام تو نہیں کرتا لیکن قرب اس کا بہت ہے ۔ ہر وقت آقا رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تو اِس سے اُس کے اور آقا کے اندرونی تعلقات کا پتہ لگتا ہے کہ کس قدر بڑھے ہوئے ہیں یہی حال مسیح ؑ کا ہے ان کی زندگی کیسی تلخی سے گزری ہے ۔ گالی وغیرہ آپ