دشمنوں سے تھا ،۶ ؍جولائی کو فوت ہو گیا ۔چنانچہ اس کے جنازہ پر رسمی طور پر ہمارے مغرزو مکرم دوست سیّد محمد علی شاہ صاحب بھی چلے گئے اور جنازہ پڑھ لینے کے پیچھے آپ کو اپنے اس عمل پر تاسّف ہوا اور آپ نیذیل کا توبہ نامہ شائع کیا جو ہم ناظرین الحکم کی دلچسپی کے لیے درج کرتے ہیں کہ :۔ مَیںبذریعہ تو بہ نامہ ہذاس امر کو شائع کرتا ہوں کہ مَیں نے سخت غلطی کی ہے اور وہ یہ کہ مَیں نے غلطی سے مراز امام الدین کا جو ۶؍جولائی کو فوت ہو ا ہے اور جس نے اپنی کتا بوں میں ارتداد کیا ہے جنازہ پڑھا ۔پس میں بذریعہ اشتہار ہذایہ تو بہ نامہ شائع کرتا ہوں اور ظاہر کرتا ہوں کہ مَیں امام الدین اور ان لوگوں سے بیزار ہوں جو اس کے جنازہ میں شامل ہوئے اور بالآ خر مَیں دعائے جنازہ واپس لیتا ہوں اور خدا تعالیٰ سے اپنے گناہ کی مغفرت چاہتا ہوں ۔ خاکسار محمدعلی شاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر (حضور علیہ الصلوت واسلام نے) فر مایا کہ:۔ کو ئی شخص کسی بات پر نازنہ کرے ۔فطرت انسان سے الگ نہیں ہوا کرتی جس فطرت پر انسان اوّل قدم مارتا ہے پھر وہ اس سے الگ نہیں ہوتا یہ بڑے کوف کا مقام ہے حُسنِ خاتمہ کے لیے ہر ایک کو دعا کرنی چاہئیے ۔ عمر کا اعتبار نہیں ہر شئے پر اپنے دین کو مقدم رکھو زمانہ ایسا آگیا ہے کہ مہلے تو خیالی طورپر اندازہ عمر کا لگا یا جا تا ہے تھا مگر اب تو یہ بھی مشکل ہے دانشمند کو چاہئیے کہ ضرور موت کا انتظام کرے مَیں اتنی دیرسے اپنی برادری سے الگ ہوں میرا کسی نے بگاڑ دیا خدا تعالیٰ کے مقابل پر کسی کو معبود نہیں بنانا چاہئیے۔ ۱ ؎ ایک غیر مومن کی بیمار پُرسی اور ماتم پُرسی تو حُسن اخلاق کا نتیجہ ہے لیکن اس کے واسطے کسی شعائرِ اسلام کو بجا لا ناگناہ ہے مومن کا حق کافر ۲؎ کودینا نہیں چاہئیے اور نہ منافقانہ ڈھنگ اختیار کرنا چاہئیے ۔ خدا تعالیٰ کی ذات گو مخفی ہے مگر اس کے انوار ظاہر ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مخفی نہیں۔