کہ اگر تم سّچا تعلق رکھتے ہو تو اللہ تعالیٰ سے پکاّعہد کر لو کہ اس قدر چندہ ضرور دیا کروں گا اور ناواقف لوگوں کو یہ بھی سمجھایا جاوے کہ وہ پوری تابعداری کریں ۔اگر وہ اتنا عہد بھی نہیں کرسکتے تو پھر جماعت میں شامل ہو نے کا کیا فائدہ ؟نہایت درجہ کا بخیل اگر ایک کوڑی بھی روزانہ اپنے مال میں سے چندے کے لیے الگ کرے تو وہ بھی بہت کچھ دے سکتا ہے ایک ایک قطرہ سے دریا بن جاتا ہے اگر کوئی چار روٹی کھا تا ہے تو اسے چاہئیے کہ ایک روٹی کی مقدار اس میں سے اس سلسلہ کے لیے بھی الگ کر رکھے اور نفس کو عادت ڈالے کہ ایسے کاموں کے لیے اسی طرح سے نکا لا کرے۔
چندے کی ابتدااس سلسلہ سے ہی نہیں ہے۔بلکہ مالی ضرورتوں کے وقت نبیوں کے زمانہ میںبھی چندے جمع کئے گئے تھے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ ذرا چندے کا اچارہ ہوا تو تمام گھر کا مال لا کر سامنے رکھ دیا۔پغمبرخدا ﷺنے فرمایا کہ حسبِ مقدورکچھ دینا چاہیے اور آپ کی منشاء تھی کہ دیکھا جاوے کہ کون کس قدر لاتا ہے۔ابو بکرؓنے سارا مال لا کر سامنے رکھدیا۔اور حضرت عمرؓ نے نصف مال۔آپ نے فرمایا کہ یہی فرق تمہارے مدارج میں ہے اور ایک آج کا زمانہ ہے کہ کوئی جانتا ہی نہیں کہ مدد دینی بھی ضروری ہے۔حلانکہ اپنی گذران عمدہ رکھتے ہیں ان کے بر خلاف ہندوئوںوغیرہ کو دیکھو کہ کئی کئی لاکھ چندہ جمع کرکے کارخانہ چلاتے ہیں اور بڑی بڑی مذہبی عمارات بناتے اور دیگر موقعوں پر صرف کرتے ہیں حلانکہ یہاں تو بہت ہلکے چندے ہیں۔پس اگر کوئی معاہدہ نہیں کرتا تو اسے خارج کرنا چاہیے وہ منافق ہے اور اس کا دل سیاہ ہے۔ہم ہر گز نہیں کہتے کہ ماہواری روپے ہی ضرور دو ہم تو یہ کہتے ہیں کہ معاہدہ کرکے دو جس میں کبھی فرق نہ آوے۔صحابہ اکرام ؓ کو پہلے ہی سکھایا گیا تھا۔
لن تنالواالبر حتیٰ تنفقوا مما تحبون (ال عمران:۹۳)
اس میں چندہ دینے اور مال صرف کرنے کی تاکیداور اشارہ ہے۔
یہ معاہدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدہ ہوتا ہے اس کو نباہنا چاہیئے۔اس کے بر خلاف کرنے میں خیانت ہوا کرتی ہے۔کوئی کسی ادنیٰ درجہ کے نواب کی خیانت کرکے اس کے سامنے نہیں ہوسکتا تو احکم الحاکمین کی خیانت کرکے کس طرح اسے اپنا چہرہ دکھلا سکتا ہے۔ایک آدمی سے کچھ نہیں ہوتا۔جمہوری امداد میں برکت ہوا کرتی ہے۔بڑی بڑی سلطنتیں بھی آخر چندوں پر ہی چلتی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ دنیاوی سلطنتیں زور سے ٹیکس وغیرہ لگا کر وصول کرتے ہیں۔اور ہیاں ہم رضا اور ارادہ پر چھوڑتے ہیں۔چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور خلوص کا کام ہے۔
پس ضرور ہے کہ ہزار در ہزار آدمی جو بعیت کرتے ہیں ان کو کہا جاوے کہ اپنے نفس پر کچھ مقرر کریں اور اس میں پھر غفلت نہ ہو۔ (البدر جلد۲ نمبر۲۶صفحہ ۲۰۱،۲۰۲مورخہ۱۷؍جولائی ۱۹۰۳ئ)