خدا ہے کہ اس پر کسی قسم کا کوئی درواز مسدود نہیں ہے ۔اس کی قدرتوں کی کو ئی انتہا نہیں ہے جو شخص اس کی وسعتِ قدرت سے منکر ہو کر اسباب کے احاطہ میں اسے مقیّد کرتا ہے تو سمجھو کہ صدق کے مقام سے وہ گرپڑا پس اگر کوئی شخص حکمِ خدا وندی سے اسباب کو ترک کرتا ہے تو تم اسے بُرا مت کہو اورخدا تعالیٰ کے قانون کو ایک تنگ وتاریک دائرہ میں محدودمت کرو ۔ (الحکم جلد۷ نمبر۲۵صفحہ۱مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۳ئ؁) نیز (البدرؔجلد ۲ نمبر ۲۵ صفحہ ۹۳ ۱۔۱۹۴ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ء ؁ ) ۴؍جولائی ۱۹۰۳؁ء مجلس قبل ازعشاء تعویذاوردَم ایک شخص نے مسئلہ اور ستفسار کیا کہ تعویذ کا بازووغیرہ مقامات پر بابدھا اور دم وغیرہ کر نا جائز ہے یا نہیں ؟ اس پر مسیح موعود علیہ اسلام الصلٰوت واسلام جناب مولٰناحکیم نورالدین صاحب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایاکہ :۔ احادیث میں کہیں اس کا ثبوت ملتا ہے کہ نہیں؟ حکیم صاحب نے عرض کیکہ لکھا ہے کہ خاکدبن ولیدجب جنگوں میں جاتے تو آنحضرت ﷺ کے موئے مبارک جو کہ آپ کی پگڑی میں بندھے ہو تے آگے کی طرف لٹکا لیتے ۔پھر آنحضرت ﷺ نے صرف ۱ ؎ ایک دفعہ صبح کے وقت ساراسرمنڈوایا تھا توآپ نے نصف سرکے بال ایک خاص شخص کودے دیئے اور نصف سرکے بال باقی اصحاب میں بامٹ دیئے ۔آنحضرت ﷺ کے جُبہ مبارک کو دھودھوکر مریضوں کو بھی پلاتے تھے ۲؎ اور مریض اس سے شفایاب ہوتے تھے ۔ایک عورت نے ایک دفعہ آپ کا پسینہ بھی جمع کیا یہ تمام اذکا ر سنکر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔ پھر اس سے نیتجہ یہ نکلا کہ بہر حال اس میں کچھ بات ضرو ہے جو خالی ازفائدہ نہیں ہے اور تعویذوغیرہ