فساد سے بچنا چاہئیے
سوال ہوا مسجد میں نماز نہیں پڑھنے دتیے اور اس مسجدمیں ہمارا حصّہ ہے فر مایا کہ:۔
سفید زمین پر ایک حد کرلی وہی مسجد ہو جاتی ہے مگر فساد اچھا نہیں ۔اگر تم دشمن سے بدلہ نہ لو اور اُسے خدا کے حسالہ کردو تو وہ خود نپٹ لیوے گا ۔دیکھو ایک بچہ کے دشمن کا مقابلہ ماںباپ کیا کرتے ہیں ۔اسی طرح جو خدا تعالیٰ کے دروازہ پر گر تا ہے تو خدا خوداس کی رعایت کرتا ہے اور اسے ضرر دینے والے کو تباہ کر دیتا ہے ۔
(البدر جلد۲ نمبر۲۴صفحہ ۱۸۷مورخہ ۳؍جولائی ۱۹۰۳ئ)
یکم جولائی ۱۹۰۳ئ
دربار شام
ایک فقہی مسئلہ
ایک لڑکی کے دوبھائی تھے اور ایک والدہ ۔ایک بھائی اور والدہ ایک لڑکے کے ساتھ اس لڑکی کے نکاح کے لیے راضی تھے ۔مگر ایک بھائی مخالف تھا ۔وہ اَور جگہ رشتہ پسندکرتا تھا اور لڑکی بھی بالغ تھی ۔اس کی نسبت مسئلہ دریافت کیا گیا کہ اس کا نکاح کہاں کیا جاوے ۔حضرت اقدس علیہ اسلام نے دریافت کیا کہ لڑکی کس بھا ئی کی رائے سے اتفاق کرتی ہے ؟جواب دیا گیا کہ اپنے اس بھائی کے ساتھ جس کے ساتھ والدہ بھی متفق ہے ۔فر مایا کہ :۔
پھر وہاں ہی اس کارشتہ ہو جہاں لڑکی اور اس کا بھائی دونوں متفق ہیں۔
آنحضرت ؐ کا ابولہب کے لڑکوں سے رشتہ کرنا
پھر نکاحوں پر ذکر چل پڑا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی لڑکیوں کے رشتہ ابولہب سے ۱؎ کردئیے تھے حالانکہ وہ مشرک تھا مگر اس وقت تک نکاح کے متعلق وحی کانزول نہ ہوا تھا ۔چونکہ پغمیبر خداﷺ پر توحید غالب تھی اس لیے دخل نہ دتیے تھے اور قومیت کے لحاظ سے بعض امور کو سرانجام دیتے اس لیے ابولہب کو لڑکی دے دی تھی۔
رسُول کو علمِ غیب نہیں ہوتا
رسول عالم الغیب ہوتا ہے کہ نہیں ؟اس پر فر مایا کہ:۔اگر آنحضرت ﷺغیب ہوتاتوآپ زینب کا