باقی رہی لڑکیوں کی بات کہ ان کے موجود ہوتے حّوا کی پیدایش کی کیا ضرورت تھی ؟ تو اس طرح سمجھنا چاہئیے کہ ممکن ہے کہ جس مقام پر آ دم علیہ اسلام کی پیدائش ہوئی وہاں کے لوگ کسی عذابِ الہیٰ سے ایسے تباہ ہوگئے ہوں کہ آدمی نہ بچا ہو۔ ۴ ؎ دنیا میں یہ سلسلہ جاری ہے کہ کوئی مقام بالکل تباہ ہو جاتا ہے ۔کوئی غیر آبادآباد ہو جاتا ہے کوئی برباد شدہ ازسربوآباد ہو جاتا ہے ۔چنانچہ لو کہ ابھی تک یورپ والے ٹکریں ماررہے ہیں کہ شاید قطب شما لی میں کوئی آبادی ہو اور تلاش کر کرکے معلوم کر رہے ہیں کہ کَون سے قطعاتِ زمین اعّل آباد تھے اور پھر تباہ ہو گئے ۔پس ایسی صورت میں ان مشکلات میں پڑنے کی ضرورت ہے؟ ایمان لانا چاہئیے کہ خداتعالیٰ ربّ۔رحمنٰ۔رحیم۔ مالک یوم الدین ہے اور ہمیشہ سے ہی ہے ۔جاندار ایک تو تکوّن سے پیدا ہوتے ہیں اور ایک تکوین سے۔ممکن ہے کہ آدم کی پیدائش کے وقت اَور مخلوقات ہواور اس کی جنس سے نہ ہو یا اگر ہو بھی تو اس میں کیا ہرج ہے کہ قدرت نمائی کے لیے خدا تعالیٰ نے حّوا کو بھی اُن کی پسلی سے پیدا کردیا۔
جب انسان بیعت کرتا ہے تو سب امرونہی اسے ماننے چاہئیں اور خداتعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان چاہئیے ۔خدا تعالیٰ ہر طرح پر قادر ہے ۔ممکن ہے کہ ایک قوم موجود ہو۔اور اس کے ہوتے ہوئے وہ اَور قوم پیدا کردیوے یا ایک قوم کو ہلاک کرکے اَور پیدا کردے ۔موسیٰؑ کے قصہّ میں بھی ایک جگہ ایسا واقعہ بیان ہوا ہے آدم ؑ کے وقت بھی خدا سابقہ قوموں کو ہلاک کر چکا تھا ۔پھر جب آدمؑ کو پیدا کیا تواَور قوم بھی پیدا کردی۔
خلیفہ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ایک قوم ضرورپہلے سے موجود ہو ۔ ایساہو سکتا ہے کہ ایک اَورقوم کو پیدا کرکے پہلی قوم کا خلیفہ اُسے قرار دیا جاوے اورآدم اس کے مورثِ اعلیٰ ہوں کیونکہ خداتعالیٰ کی ذات ازلی ابدی ہے اس پر تغیرّنہیں آتا ۔ مگر انسان ازلی ابدی نہیں ہے اس پر تغیر آتا ہے میرے الہام میںبھی مجھے آدم کہا گیا ہے ۔
جب روحانیت پر موت آجاتی ہے یعنی اصل انسانیت فوت ہو جاتی ہے تواللہ تعالیٰ بطور آدم کے ایک اَور کو پیدا کرتا ہے اور اس طرح سے ہمیشہ سے آدم پیدا ہوتے رہتے ہیں اگرقدم سے یہ سلسلہ ایسا نہ ہو تو پھر ماننا پڑیگا کہ پانچ یا چھ ہزار برس سے خداہے قدم سے نہیں ہے یا یہ کہ اوّل وہ معطّل تھا ۔
یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ بعض قرون کو ہلاک کرتا ہے ۔دیکھو نوحؑ کے وقت ایک زمانہ کو ہلاک کر دیا ۔اس لیے ممکن ہے ممکن کیا بلکہ یقین ہے کہ نوحؑ کی طرح اس وقت سابقہ قوموں کو ہلاک کر دیا اور پھر ایک نئی پیدائش کی ۔اگر یہ ہلاکت کا سلسلہ نہ ہو تو پھر زمین پر اس قدرآبادی ہو کہ رہنا محال ہو جاوے ۔یہ قبریں ہی ہیں جنہوں نے یہ پردہ پوشی کی ہے۔ ۱؎ (البدر جلد۲ نمبر۲۴صفحہ ۱۸۶۔۱۸۷مورخہ ۳؍جولائی۱۹۰۳ئ)