۲۶؍جون ۱۹۰۳؁ء دربارِشام ایماان کیسا تھ عمل ضروری ہیَ فر مایا:۔ ۲؎ اسلام کادعویٰ کرنا اور میرے ہاتھ پر بیعت توبہ کر نا کوئی آسان کام نہیں ۔کیو نکہ جب تک ایمان کے ساتھ عمل نہ ہو کچھ نہیں ۔منہ سے دعویٰ کر نا اور عمل سے اس کاثبوت نہ دینا خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کا ناہے اور اسی آیت کا مصداق ہوجانا ہے ۔ یا یھاالذین امنو الم تقو لون مالا تفعلون ۔کبر مقتا عنداللہ ان تقولو مالا تفعلون ۔((الصّف:۳،۴) یعنی اے ایمان والو تم وہ با ت کیوں کہتے ہو جو تم نہیںکرتے ہو۔یہ امر کہ تم وہ باتیں کہو جن پر تم عمل نہیں کرتے خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑے غضب کا موجب ہے۔ پس وہ انسان جس کا اسلام کا دعویٰ ہے یا جو میرے ہاتھ پر توبہ کرتا ہے اگر ووہ اپنے آپ کو اس دعویٰ کے موافق نہیں بناتا اور اس کے اندر کھوٹ رہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے بڑے غضب کے نیچے آجا تا ہے اس سے بچنا لازم ہے۔ امرِشرعی اور امرِکونی فر مایا:۔ ۱؎ اور امر کی دوقسمیں ہوتی ہیں:۔ ایک امر شرعی ہوتا ہے جس کے برخلاف انسان کرسکتا ہے ۔دوسرے اوامر کونی ہوتے ہیں جس کا خلاف ہونی نہیں سکتا ۔جیسا کہ فر مایا یا نار کونی بر داوسلا ماعلی ابراھیم (الانبیائ:۷۰) اس میں کوئی خلا ف نہیں ہوسکتا ۔چنانچہ آگ اس حکم کے خلاف ہر گز نہ کر سکتی تھی۔ ۲؎ انسان کو جو حکم اللہ تعالیٰ نے شریعت کے ربگ میں دئیے ہیں جیسے اقیمواالصلوت(البقرہ :۴۴) نماز کو قائم رکھو۔فر مایا واستعینو ابا لصبروالصلوت(البقرہ :۴۴) ان پر جب ایک عرصہ تک قائم رہتا ہے تو یہ احکام بھی شرعی رنگ سے نکل کر کونی رنگ اختیار کرلیتے ہیں اور پھر وہ ان احکام کی