اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
قل اعو ذبرب الفلق (الفلق:۲)
میں اس خدا تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جس کیتمام پرورشیں ہیں
رب
یعنی پرورش کنذہ وہی ہے اس کے سوا کسی کا رحم اور کسی کی پرورش نہیں ہو تی حتیٰ کہ جو ماں باپ بچے پر رحمت کرتے ہیں دراصل وہ بھی اسی خدا کی پرورشیں ہیں اور بادشاہ رو رعایا سے انصاف کرتا ہے اور اس کی پرورش کرتا ہے وہ سب بھی اصل میں خدا تعالیٰ کی مہربانی ہے ۔
ان تمام باتوں سے اللہ تعالٰی یہ سکھلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برابر کو ئی نہیں سب کی پرورشیں ہو تی ہے ۔ بعض لوگ بادشاہوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں نہ ہوتا تو مَیں تباہ ہو جاتا اور میرا فلاں کام بادشاہ نے کر دیا وغیرہ وغیرہ یادرکھو ایسا کہنے والے کافر ہوتے ہیں انسان کو چاہییئے کہ کافر نہ بننے مومن ننے اور مومن نہیں ہو تا جب تک کہ دل سے ایمان نہ رکھے کہ سب پرورشیں اور رحمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں انسان کو اس کا دوست ذرہ بھی فائدہ نہیں دے سکتا جب تک کہ خدا تعالیٰ کا رحم نہ ہو اسی طرح بچے اور تمام رشتہ داروں کا حال ہے اللہ تعالیٰ کا رحم ہو نا ضروری ہے خدا تعالیٰ فر ما تا ہے کہ دراصل مَیں ہی تمہاری پرورش کرتا ہوں جب خدا تعالیٰ کی پرورش نہ ہو تو کو ئی پرورش نہیں کر سکتا دیکھو جب خدا تعالیٰ کسی کو بیمار ڈال دیتا ہے تو بعض دفعہ طبیب کتنا ہی زور لگاتے ہیں مگر وہ ہلاک ہو جاتا ہے طاعون کے مرض کی طرف غور کرو سب ڈاکڑ زور لگا چکے مگر یہ مرض دفع نہ ہوا اصل یہ ہے کہ سب بھلا ئیوں اسی کی طرف سے ہیں اور وہی ہے کہ جو تمام بدیوں کو دور کرتا ہے ۔
پھر فرما تا ہے
الحمدللہ رب العالمین(الفاتحہـ:۲)
سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور تمام پرورشیں تمام جہان پر اسی کی ہیں ۔
الرحمنٰ
وہی ہے جس کی رحمتیں نے بدلہ ہیں مثلاً انان کا کیا عذرتھا اگر اللہ تعالیٰ اسے کتا بنا دیتا ہے تو کیا یی کہہ سکتا تھا کہ اے اللہ تعالیٰ میرا فلاں عمل نیک تھا اس کا بدلہ تو نے نہیں دیا ۔
الر حیم
اس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیک عمل کے بدلہ نیک نتیجہ دیتا ہے جیسا کہ نماز پڑھنے والا روزہ رکھنے والا صدقہ دینے والا دنیا میں بھی رحم پاویگا اور آخرت میں بھی چنا نچہ اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے ۔
ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین(التوبہ:۱۲۰)
اور دوسری جگہ فرماتا ہے
من یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ۔ومن یعمل مثقال ذرۃشرایرہ(الذلذال:۸،۹)
یعنی اللہ تعالیٰ کسی کے اجر کو ضائع نہیں کرتا جوکوئی ذرہ سی بھی بھلائی کرتا ہے وہ اس کا بدلہ پالیتا ہے ۔
ایک یہودی نے کسی شخص کو کہا کہ میں تجھے جادوسکھلا دوں گا شرط یہ ہے کہ تو کوئی بھلا ئی نہ کرے جب دنوں کی تعدا د پوری ہو گئی اور جادو نہ سیکھ سکاتو یہودی نے کہا کہ تو نے ان دنوں میں ضرور کو ئی بھلا ئی کی ہے ۔