مبارک قدموں میں جاگزیں ہیں ان کو ایک شادی کی تقریب میں شمولیت کے واسطے (ساتھ لے جانے کے واسطے ) ایک دو احباب سیالکوٹ سے تشریف لا ئے تھے مگر خدا تعالیٰ نے جو عشق اور محبت مولوی صاحب کو حضرت اقدس کے ساتھ عطاکیا ہے وہ ایک پل کے واسطے بھی ان مبارک قدموں سے جدائی کی اجازت نہیں دیتا بکہ اس کا اثر یہ ہے کہ جب کو ئی احمدی بھا ئی قادیان آکر پھر رخصت طلب کرتے ہیں تو مولوی صاحب کی ان کو یہی نصیحت ہو تی ہے کہ اس مقام کو اتنی جلدی نی چھوڑ و دیکھو تمہارے اوقات دنیوی کا روبار میں کس قدر گذرتے ہیں اگر اس کا ایک عشرِ عشیر بھی تم دین کے واسطے یہاں گذارو تو تم کو پتہ لگے اور آنکھ کھلے کہ یہاں کیا ہے جو ہمیں ایک پل کے واسطے علحیدہ نہیں ہو تے دیتا غرضیکہ کہ مولوی صاحب موصوف نے سیالکوٹ جانے سے انکار کیا اور وہی بات اس وقت حضرت اقدس کے سامنے پیش ہو ئی حضرتاقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ:۔
قادیان دارالامان
اس مقام کو خدا تعالیٰ نے امن والا بنایا ہے اور متواتر کشوف والہامات سے ظاہر ہوا ہے کہ جو اس کے اندر داخل ہوتا ہے وہ امن میں ہوتا ہے ۔
تواب ان ایام میں جبکہ ہر طرف ہلاکت کی ہوا چل رہی ہے اور گو کہ طاعون کا زور ان کم ہے مگر سیالکوٹ ابھی تک مطلق اس سے خالی نہیں ہے اس لیے اس جگہ کو چھوڑ کر وہاں جانا خلافِ مصلحت ہے ۔
آخر کار یہ تجویر قرار پائی کہ جن صاحب کی شادی ہے وہ اور لڑکی کی طرف سے اس کا ولی ایک شخص وکیل ہو کر یہاں قادیان میں آجاویں اور یہاں نکاح ہو حضرت صاحب کی دعا بھی ہو گئی اور خودمولوی عبدالکریم صاحب کیا بلکہ حضرت اقدس علیہ السلام بھی اس تقریب ِنکاح میں شامل ہو جاوینگے ۔
جس لڑکے کے رشتہ کی یہ تقریب تھی اس کا رشتہ اول ایک ایسی جگہ ہوا تھا جو کہ حضرت اقدس کی بیعت میں نہیں تھے اور جب یہ رشتہ قائم ہوا تھا تواس وقت لڑکا بھی شامل ِبیعت نہ تھا جب لڑکے نے بیعت کی تولڑکی والوں نے اس لیے لڑکی دینے سے انکار کر دیا کہ لڑکا کا مرزائی ہے ۔
اس ذکر پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔
اول اول یہ لوگ ایک دوسرے کا فر کہتے تھے سنی وہابیوں کی اور وہابی سنی کی تکفیر کرتا تھا مگر اب اس وقت سب نے موافقت کر لی ہے اور سارا کفر اکٹھا کر کے گو یا ہم پر ڈال دیا ہے ۔
(البدرجلد ۲ نمبر ۲۳ صفحہ ۱۷۹ مورخہ ۲۶؍ اجون ۱۹۰۳ئ)