اسی لیے تو یہ قصّہ لکھا ہے کہ وہ نبی تھا اور تم تو اُمتی ہو تم کو اور بھی ڈر کر قدم رکھنا چاہیئے ۔یہ اس طر ح کے امور ہو تے ہیں کہ ظاہری شریعت کو منسوخ کر دیتے ہیں ۔۱؎مولانا روم نے ایسی ہی ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک طبیب نے ایک کنیز کو ایسے طریق سے ہلاک کر دیا کہ پتہ نہ لگا ۔مسہل وغیرہ ایسی ادویہ دیتا رہا کہ وہ کمزور ہو ہو کر مر گئی ۔تو پھر اس پر لکھا ہے کہ اس پر قتل کا جرم نہ ہو گا ۲ ؎ کیونکہ وہ تومامور تھا اس لیے اپنے نفس سے اسے قتل نہیں کیا بلکہ امر سے کیا ۔
اسی طرح ملک الموت جو خدا جانے کسقدر جانیں روز ہلاک کرتا ہے کیا اس پر مقدمہ ہو سکتا ہے ؟وہ تو مامور ہے اسی طرح ابدال بھی ملائکہ کے رنگ میں ہو تے ہیں ۔خدا ان سے کئی خدمات لیتا ہے ۔پیمانہ شریعت سے ہر ایک امر کو ناپنا غلطی ہو تی ہے ۔ ۳؎ (البدر جلد ۶ نمبر ۲۲ صفحہ ۱۷۰۔۱۷۱ مورخہ۱۹ ؍جون۱۹۰۳ئ)
۱۴ جُون ۱۹۰۳ء
دربار شام
اللہ تعالیٰ سے سچارشتہ
فرمایا:۔
آنحضرت ﷺ اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ وہ لوگ بڑے سیدھے سادے تھے جیسے کہ ایک بر تن قلعی کراکر صاف اور ستھرا ہو جاتا ہے ایسے ہی ان لوگوں کے دل تھے جو کلام الہیٰ کے انوار سے روشن اور کدورت نفسانی کے زنگ سے نالکل صاف تھے گویا
قد افلح من زکھا (الشمس:۱۰)
کے سچے مصداق تھے ۔ ۱؎