زر تھا ۔مگر اُن کی زندگی پرکس قدر انقلاب آیا کہ سب کے سب ایک ہی دفعہ دستبردار ہو گئے اور فیصلہ کر لیا کہ ان صلاتی و نسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین (الانعام :۱۶۳) ہمارا سب کچھ اللہ ہی کیلئے ہے۔اگر اس قسم کے لوگ ہم میں ہو جا ویں تو کونسی آسمانی بر کت اس سے بزرگ تر ہے ؟ بیعت کرنا صرف زبانی اقرار ہی نہیں بلکہ یہ تو اپنے آپ کو فروخت کر دینا ہے خواہ ذلت ہو نقصان ہو کچھ ہی کیوں نہ ہو کسی کی پر وانہ کی جاوے ۔مگر دیکھو اب کس قدر ایسے لوگ ہیں جو اپنے اقرار کو پورا کر تے ہیں ۔بلکہ خدا تعالیٰ کو آزمانہ چاہتے ہیں بس یہی سمجھ رکھا ہے کہ اب ہمیں ،مطلقاً کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو نی چاہیئے اور ایک پُر امن زندگی بسرہو حالانکہ انبیاء اور قطبوں پر مصائب آئے اور وہ ثابت قدم رہے مگر یہ ہیں کہ ہر ایک تکلیف سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں ۔بیعت کیا ہوئی گویا خدا تعالیٰ کو رشوت دینی ہوئی ۔حالانکہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے ۔ احسب الناس ان یترکو ان یقولو امنا وھم لایفتنون(العنکبوت:۳) یعنی کیا یہ لوگ گمان کر تے ہیں کہ یہ فقط کلمہ پڑ ھ لینے پر ہی چھوڑ دئیے جاویں گے اور ان کو ابتلاؤں میں نہیں ڈالا جاوے گا ۔پھر یہ لوگ بلاؤں سے کیسے بچ سکتے ہیں ہر ایک شخص کو جو ہمارے ہاتھ پر بیعت کر تا ہے جان لینا چاہیئے کہ جب تک آخرت کے سرمائے ک فکر نہ کیا جاوے کچھ نہ بنے گا اور یہ ٹھیکہ کرنا کہ ملک الموت میرے پاس نہ پھٹکے ،میرے کنبہ کا نقصان نہ ہو ،میر ے مال کا بال بیکا نہ ہو ،ٹھیک نہیں ہے ۔خود شرط وفا دکھلاوے اور ثابت قدمی وصدق سے مستقل رہے ۔اللہ تعالیٰ مخفی راہوں سے اس کی رعایت کرے گا اور ہر ایک قدم پر ان کا مددگار بن جاوے گا ۔ انسان کو صرف پنجگانہ نماز اور روزوں وغیرہ احکام کی ظاہری بجا آوری پر ہی ناز نہیں کر نا چاہیئے کہ نماز پڑھنی تھی پڑھ لی ۔روزے رکھنے تھے رکھ کیے ،زکوۃ دینی تھی دے دی ۔وغیرہ نوافل ہمیشہ نیک اعمال کے مُتَمّمِ و مُکمِّل ہو تے ہیں اور یہی تر قیات کا موجب ہو تا ہے ۔مومن کی تعریف یہ ہے کہ خیرات وصدقہ وغیرہ جو خدا نے اس پر فرض ٹھہرایا ہے ۱ ؎ بجا لاوے اور ہر ایک کا رخیرکرنے میں اس کو ذاتی محبت ہو اور کسی تصنع و نمائش و ریا کو اس میں دخل نہ ہو ۔یہ حالت مومن کی اس کے سچے اخلاص اور تعلق کو ظاہر کرتی ہے اور ایک سچا اور مضبوط رشتہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ پیدا کر دیتی ہے ۔اس وقت اللہ تعالیٰ اُس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور اس کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ کام کرتا ہے ۔