جواب :۔ فرمایا :۔ من قتل نفسا بغیر نفس( المائدہ:۳۳) کے ساتھ آگے اوفسا دفی الارض ( المائدہ :۳۳) بھی لکھا ہے فساد کا لفظ وسیع ہے جوشی کسی زمانہ میں فساد کا مو جب ہو سکتی ہے وہ آیندہ زمانہ میں قتل ِنفس کا موجب بھی ہو سکتی ہے حشرات الا رض کو ہم دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں ہزاروں روز مارے جاتے ہیں اس لیء کہ وہ کسی کی ایذکا موجب نہ ہوں چنا نچہ لکھا ہے کہ قتل الموذی تجل الا یذاء تو ہر ایک موذی شئے کا قتل اس کے ایذا دینے سے قبل جا ئز ہوتا ہے حالا نکہ اس موذی نے ابھی کو ئی قتل وغیرہ کیا نہیں ہو تا ۲؎ شریعت اور الہامی اور کشفی امور الگ الگ ہیں اس لیے ان کو شریعت کے ظاہری الفاظ کے تابع نہ کر نا چا ہیئے ۔ وحیٰ الہی کا معاملہ ہی اور ہوتا ہے اس کی ایک دو نظیر یں نہیں بلکہ ہزار رہا نظائر ہیں بعض وقت ایک ملہم کو الہام کی رو سے احکام بتلا ئے جاتے ہیں۔ کہ شر یعت کی روسے ان کی بجاآوری دوست نہیں ہو تی مگر جسے بتلا ئے جاتے ہیں اسے ان کا بجالا نا فرض ہو تا ہے اور عدم بجاآوری میں اسے موت نظر آتی ہے اور سخت گناہ ہوتا ہے حالا نکہ شریعت اُسے گناہ قرار ہی نہیں دیتی یہ تمام با تیں من لدنا علما کے تحت میں ہو تی ہیں ایک جاہل تو ان کو شریعت کے مخالف قرار دیگا اور اعتراض کر یگا مگر وہ اس کی بیوقوفی ہو گی وہ بھی اصل میں ایک شریعت ہی ہے ۔ ۳؎ جب سے دنیا چلی آئی ہے یہ دو نوباتیں ساتھ ساتھ چلی آتے ہیں یعنی ایک تو ظاہر شریعت جو ۱؎