وارد ہو تی ہے کسی کو لڑائی سے کسی کو کسی طرح سے ۳؎ جیسے ابراہیم علیہ السلام نے جنگ نہ کی تو آپ کو لڑکے کی قربانی کر نی پڑی۔ یہ بات قابل افسوس ہے کہ خدا پر امید رکھے اور ایک اور بھی حصہ دار ہو قرآن میں بھی لکھا ہے کہ حصہ سے خدا راضی نہیں ہو تا بلکہ فرماتا ہے کہ حصہ داری سے جو حصہ انہوں نے خدا کا کیا ہوتا ہے وہ بھی خدا انہی کا کر دیتا ہے کیو نکہ غیرت احدیت حصہ داری کو پسند نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ انبیاء باوجود غریب ۔یتیم اور بکیس اور بلا اسباب ہو نے کے اور پھر جب قانون دنیا کے لیے ہنر ہو نے کے آگے سے آگے قدم بڑھا تے ہیں اور یہ سب سے پہلا ثبوت خدا تعالیٰ کی خدا ئی کا ہے ۴؎ اسی لیے ان کے مخالف حیران ہو جاتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ جو شخص بڑا جاہل اور ان کے تقدس سے بیخبر ہو تا ہے وہ بھی کم ازکم ان کی دانائی کا قائل ہو تا ہے جیسے عیسا ئی لوگ آنحضرتﷺ کی پیشگوئیاں پوری ہو تی دیکھ کر کہتے ہیں کہ وہ بہت دانا آدمی تھا۔ تو بہ ہی طاعون کا علاج ہے طاعون کے علاج کی نسبت فرمایا کہ :۔ بخزاس کے تو بہ ہوا اور سب تجاویز جواس کے علاج کے لیے سوچی جاویں۔ خدا کے ساتھ مقابلہ ہے کو ئی تجوویز نا کافی ہے جب تک خدا سے صلح نہ ہو ۔ (البدرؔجلد ۲ نمبر ۲۲ صفحہ ۱۷۰ مورخہ ۱۹ ؍جون۱۹۰۳؁ئ) ۱۱جون ۱۹۰۳؁ء مجلس قبل ازعشاء حقیقت اور معرفت فرمایا کہ:۔ درحقیقت خدا تعالیٰ نے تنگی کسی بات میں نہیں