مدنظر رہے اور پھر ایک ہی راہ سے سب کو گذرارا جاوے ۔ ۲؎
آپ پر ایمان لا نے کے مختلف طریق تھے بعض اخلاص دیکھ کر ایمان لا ئے تھے ۱؎ غرضکہ آ دم سے لیکر آنحضرت ﷺ تک جسقدر طریق جمع ہو سکتے تھے وہ سب آپ میں جمع تھے یہ بھی ایک مجموعہ جمع کر نے کے قابل ہے کہ اسلا میں داخضل ہو نے کے طریق کیا کیا تھے ۔
آنحضرت ﷺ کے آثار میں سے ایک تو جہ کا بھی حصہ ہے کہ جو لوگ قسی القلب تھے وہ بھی کھچے چلے آتے تھے ایک دفعہ ایک بادشاہ ثمامہ کو باندہ گیا آپ اس کے حالات ہر روز دریافت کرتے چنا نچہ چند روز کے بعد حکم دیا کہ اسے چھوڑ دیا جاوے پھر اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلے کہ پہلے دنیا کے تمام ناموں سے تیرا نام مجھے بہت برا معلوم ہوتا تھا اور آج وہی نام سب سے پیارا ہے اور اس شہر سے مجھے بیت بہت نفرت ہو تی تھی لیکن اب اس شہر کو محبت اور پیار کی جگہ دیکھتا ہوں تو یہ آنحضرتﷺ کی تو جہ ہی تھی جس سے باظنی چرک ومیل دور ہو تی تھی اس کو بنظر ِاستخفاف نہ دیکھنا چا ہیئے تو جہ میں بھی ایک قوت قدسیہ اور تا ثیر ہو تی ہے ۔ ۲؎