ہو گئے ہزاروں لا کھو ں بچے بے بدر ،لا کھوں خا ندان بے ٹھکا نہ ہو گئے جہاںیہ بڑی ہے بے نا م نشا ن اس جگہ کو کر دیا بعض گھروں میں کیا محلوں اور گا ؤں میں کو ئی آبا د ہو بے والا نہیں رہا۔ انسا نوں سے گذر کر حیوانوں کو تبا ہ کیا ۔گو یا یہ با ت کہ انسان کے گنا ہ سے تما م ز مین لعنتی ہو گئی ۔اب گو یا اہل زمین کیا چر نداور کیا پر ند انسا ن کی بد کا ری کے بد لے پکڑے جا رہے ہے ۔لو گوں میں با وجو د اس کے کہ سخت سے سخت عذاب میں مبتلا ہیں ۔مگر ویسے ہی رعونت و کبر سے مخمور پھر تے ہیں مو ت کا خو ف دل سے اٹھ گیا ہے اللہ تعالیٰ کی عزت کا پا س دل میں نہیں ر ہا عوا م تو عوام خواص کا یہ حا ل ہے کہ دنیا پر ستی میں سخت جکڑے ہو ئے ہیں خدا کا نا م فقط ز با ن پر ہی ہے۔ اندر با لکل اللہ تعالیٰ کی محبت وخشیت سے خا لی ہے ۔ ۱؎ و فا ت ِمسیحؑ مسیح کی وفا ت کا کیا معا ملہ تھا اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے کہ فلما تو فیتنی(الما ئدہ :۱۱۸) بخا ری میں متوفیک معنے صاف رسول اللہﷺ کی زبا نی ممیتک آیا حدیث کے فرمو دہ کے مطا بق چودہویں صدی کے سر پر مجدد آیا مگر انہوں نے قبو ل نہ کیا ہزاروں طر ح کے حیلے د نیا نے کئے طرح طرح کی شرارتیں منصوبے تجویر کئے مگر اللہ تعالیٰ کا جیسا کہ وعدہ تھا اپنے زرو آور حملوں سے سچا ئی ظا ہر کر تا رہا۔ عیسا ئی لو گ ز ہر نا ک کیڑے کی طرح اسلا م کے درخت کی جڑ کو کا ٹ رہے ہیں ۲؎ مگر علما ء کو ذرا بھی خیا ل