حضرت اقدس نے پھر اپنی تقریر کو شروع کیا اور فرمایا : یورپ اور اسلامی ممالک کا موازنہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ ایک شریف آدمی جب خلافِ واقعہ بات سُنتا ہے تو پھر اس پر اصرار کرتا ہے تو دل میں سخت رنجیدہ ہوتا ہے ۔ہمار سوال تو یہ ہے کہ پادری صاحب سے پوچھا جاوے گناہ سے تمہاری کیا مراد ہے ؟آیا زنا،چوری فریب ،قتل ،قمار بازی ،شراب نوشی تمہارے نزدیک گناہ میں داخل ہیں یا نہیں ۔اگر ہیں تو کیا یورپ کی حالت اسلامی ممالک کی حالت سے بہتر ہے یا ابتر یامساوی ۔صغائر کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ۔مثلاً ایک شخص بد نظری میں مبتلا ہے ۔ممکن ہے عورت کو خبر ہی نہ ہو جس پر بد نظری کرتا ہے ۔لیکن ایک شخص جو زنا کرتا ،چوری کرتا ،شراب پیتا ہے اس کی خبر ایک دُنیا کو ہوگی ۔ان جرائم کا اس قدر زور ہے کہ چھپائے سے چھپ سکتا ہی نہیں ۔قمار بازی میں اتلافِ حقوق ہوتا ہے ۔شراب نوشی ساتھ دوسرے گنا ہ مثلاً زنا،قتل وغیرہ لازم پڑے ہوئے ہیں جہاں تک ہمیں مجرموں کے حالات سے شہادت ملتی ہے وہ یہ ہے کہ شراب سے زنا ترقی کرتا ہے ۔چناچہ شراب نوشی میں اس وقت یورپ اوّلدرجہ پر ہے اور زنامیں بھی اوّل نمبر پر ہے۔اب دیکھئے کہ پردہ کی رسم ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ جیسا کتاب اللہ نے بتایا ہے اور تجارب نے اس کی تصدیق کی ہے سچا تزکیہ نفس جو مجاہدات سے پیدا ہوتا ہے وہ پردہ سے ہی حاصل ہوتا ہے ۔ مومنوں کے تین طبقے ہیں :۔؎ ایک وہ جو ٹھوکر کھانے کے لائق ہوتے ہیں۔ دسرے وہ جو میانہ رو ۔کسی ٹھوکر سے بچتے اور ڈرتے رہتے ہیں۔ تیسرے وہ جو ہر ایک ٹھوکر سے ایسے بچ کر نکل جاتے ہیں جیسے سانپ اپنی کینچلی سے وہ ہر ایک خیر کے لئے دوڑتے اور ہر ایک شّر سے بھاگتے ہیں ۔