ان کو ولی سمجھ بیٹھتے ہیں اور ایسی واہیات دم کشی کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں حالانکہ فخر کے قابل یہ بات ہے کہ انسان مرضیاتِ الٰہی پر چل کر اپنے پیغمبر نبی کریم ﷺ سے صلح و آشتی پیدا کرے جس سے کہ وہ انبیا ء کا وارث کہلائے اور صلحا ء وابدال میں داخل ہو ۔اسی تو حید کو پکڑے اور اس پر ثابت قدم رہے اللہ تعالیٰ اپنا غلبہ و عظمت اس کے دل پر بٹھا دیگا ۔ وظیفوں کے ہم قائل نہیں ۔یہ سب منتر جنتر ہیں جو ہمارے ملک کے جوگی ہندو سنیاسی کرتے ہیں جو شیطان کی غلامی میں پڑے ہوئے ہیں ۔البتہ دُعا کرنی چاہیئے خواہ اپنی ہی زبان میں ہو ۔ سچے اضطرا ب اور سچّی تڑپ سے جناب الٰہی میں گداز ہو ا ہو ایسا کہ وہ قادر الحّی القیوم دیکھ رہا ہے ۔جب یہ حالت ہوگی تو گناہ پر دلیری نہ کریگا جس طرح انسان آگ یا ہلاک کرنے والی اشیاء سے ڈرتا ہے ویسے ہی اس کو گناہ کی سرزنش سے ڈرنا چاہیئے ۔گناہگار زندگی انسان کے لیے دُنیا میں مجسم دوزخ ہے جس پر غضبِ الٰہی کی سموم چلتی اور اس کو ہلاک کر دیتی ہے ۔جس طرح آگ سے انسان ڈرتا ہے اسی طرح گناہ سے ڈرنا چاہیئے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی آگ ہے ہمارا مذہب یہی ہے کہ نماز میں رو رو کر دُعائیں مانگو تا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے فضل کی نسیم چلائے دیکھو شیعہ لوگ کیسے راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں حسین حسین کرتے مگر احکامِ الٰہی کی بے حرمتی کرتے ہیں ۔حالانکہ حسین کو بھی بلکہ تمام رسُولوں کو استغفار کی ایسی سخت ضرورت تھی جیسے ہم کو ۔چناچہ رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین کا فعل اس پر شاہد ہے ۔کون ہے جو آپ سے بڑھ کر نمونہ بن سکتا ہے۔ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۲ صفحہ ۸ مورخہ۱۷ جون ۱۹۰۳ئ؁ ) ۲۸ مئی ۱۹۰۳ئ؁ دربار شام مولوی ۱ ؎ محمد علی صاحب ایم ۔اے نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ عیسائیوں کی طرف سے بھی ایک میگزین سہ ماہی رسالہ نکلنا شروع ہوا ہے ۔اس میں پادری صاحب نے لکھا ہے کہ مسلمان عیسائیت اس لیے قبول نہیں کرتے کہ اُن کہ دل سخت اور گناہ آلودہ ہیں ۔فرمایاکہ:۔