۲۵ مئی ۱۹۰۳ء
دربار شام
تزکیہ نفس
ایک استفسار کے جواب میں کہ آج کل کے پیراور گدی نشین وظائف وغیرہ اور مختلف قسم کے اَوراد بتاتے ہیں ۔آپ کا کیا ارشاد ہے ؟فر مایا کہ :۔
مومن جو بات سچے یقین سے کہے وہ ضرور مؤثر ہو تی ہے ۱؎ کیونکہ مومن کا مطہر قلب اسرار الہیٰ کا جزنیہ ہے جو کچھ اس پاک لوح انسانی پرت منقش ہو تا ہے وہ آئینہ خدا نما ہے۔مگر انسان جب ضعفِ بشریت سے سہوو گناہ کر بیٹھتا ہے اور پھر ذرہ بھی اس کی پرواہ نہیں کرتا تو دل پر سیاہ زنگ ہیٹھ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ قلب انسانی کہ خشیتِ الہیٰ سے گداز اور شفاف تھا ۔سخت اور سیاہ ہو جاتا ہے ۔ ۲؎ مگر جونہی انسان اپنی مرض، قلب کو معلوم کر کے اس کی اصلاح کے در پے ہو تا ہے اور شب وروز نماز میں دُعائیں ،استغفار وزاری وقلق جاری رکھتا ہے اور اسکی دُعائیں انتہاکو پہنچتی ہیں تو تجلیاتِ الہیٰ اپنے فضل کے پانی سے اس ناپاکی کو دھوڈالتی ہیں اور انسان بشرطیکہ ثابت قدم رہے ایک قلب لیکر نئی زندگی کا جامہ پہن لیتا ہے گویا کہ اس کا تولّد ثانی ہو تا ہے
دو زبر دست لشکر ہیں جن کے درمیان انسان چلتا ہے ایک لشکر رحمٰن کا دوسرا شیطان کا ۔اگر یہ لشکر رحمن کی طرف جھک جاوے اور اس سے مدد طلب کرے تو اسے بحکمِ الہیٰ مدد دی جاتی ہے اور اگر شیطان کی طرف رجوع کیا تو گناہوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ ۱؎ پس انسان کو چاہیئے کہ گناہ کی زہریلی ہو اسے بچنے کیلئے