اولیائے کرام کے ہماری تائید میں ہیں ان سب کو جھوٹا کہدیں غرضیکہ یہ سماع کا حال ہے ۔
اب عقل کا سن لوکہ نظائر پیش نہیں کرسکتے کہ کو ئی اس امر کا ثبوت دیں کہ سوائے مسیح کے اور بھی کچھ آدمی زندہ آسمان پر گئے ایک بات کو دیکھ کر دوسری کو پیدا کرنااس کا نام عقل ہے سواس کو انہوں نے ہاتھ سے دیدیا ہے دونو طریق (سماع اور عقل ) قنول ِحق کے تھے سووہ دونو کھو بیٹھے مگر یہ لوگ (اہل امر یکہ ویورپ) غور کرتے ہیں اگر چہ سب نہیں کرتے مگر ایسے پائے تو جاتے ہیں جو کرتے جس حال میں کہ وہ مانتے ہیں کہ مسیحؑ کے دوبارہ آنے کا زمانہ یہی ہے اور اس کی موت کے بھی قائل ہیں تودیکھ لو کہ لوگ کسقدر قریب ہیں اس قوم کا اقبال اب بڑھ رہا ہے اور مسلمانوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ دن بدن گرتے جاتے ہیں اور وہ منتظر ہیں کہ مسیحؑ اور مہدی ؑ آتے ہی تلوار اٹھا لیوے گا اورخون کی ندیاں بہادے گا کمبخت دیکھتے نہیں کہ مسلمانوں کے پاس نہ تو فنون ِحرب ہیں نہ ان کے پاس ایجاد کی طاقت ہء نہ استعمال کی استعداد ہے جنگی طاقت نہ بحری ہے نہ بری تو یہ زمانہ ان کے منشاء کے موافق کیسے ہو سکتا ہے؟ ورنہ خدا کا یہ ارادہ ہے کہ جنگ ہو کیا تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ انہیں کو یہ سمجھ دے دیوے کیو نکہ فہم ۔دماغ اور قبال کے ایام انہیںکے اچھے ہیں اصل علم وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے پاس ہے زمانہ وہی ہے جس کا وعدہ تھا مسلمانوں کو دیکھتے ہیں کہ نکمے ،فاسق ،فاجراور کاہل بھی ہیں تو پھر بجز اس کے اورکیا کہہ سکتے ہیں کہ خدا اسی گروہ میں سے ایسے پیدا کردے کہ وہ خود ہی سمجھ جاویں خدا تعالیٰ کو آپ اور بندوق کی کیا حاجت ہے اس نے بندوں میں ہداایت پھیلانی ہے یاانکو قتل کر نا ہے؟ زمانہ کی موجود ہ حالت خود دلالت کرتی ہے کہ یہ زمانہ علمی رنگ کا ہے اگر کسی کو مارمار کر سمجھا ؤ بھی تووہ بات دل میں نہیں بیٹھتے لیکن اگر دلائل سے سمجھا یا جاوے تو وہ دل پر تصرف کر کے اس میںدھس جاتی ہے اور انسان کو سمجھ آجا تی ہے آنحضرتﷺ کے زمانہ کی حالت اور تھی اس وقت لوہے سے اور طرح کام لیا گیا تھا اب ہم لوہے سے ہی کام لے رہے ہیں مگر اور طرح سے کہ لوہے کے قلموں سے رات دن لکھ رہے ہیں۔
میری رائے یہی ہے کہ تلوار کی اب کو ئی ضرورت نہیں عیسائی بھی جہالت میں ڈوبے ہیں اور مسلمان بھی حکمت الہیٰ چاہتی ہے کہ رفق ِاور محبت سے سمجھا یا جاوے مثلاً ایک ہندو ہے اگر دس بیس مسلمان ڈنڈے لے کر اس کے پیچھے پڑجاویں تووہ ڈر کے مارے
لاالہ الا اللہ
تو کہہ دیگا لیکن اس کا کہنا بودا ہو گا بالکل مفید نہیں ہو سکتا اور رفق اور محبت سے سمجھا یا جاوے تووہ دل میں جم جاویگا حتیٰ کہ اگر اس کو زندہ آگ میں بھی پھونک دوتو بھی وہ اس کے کہنے سے باز نہ آوے گا۔
اسلمنا(الحجرات:۱۵)
ہمیشہ لاٹھی سے ہو تا ہے اور
امنا
اس وقت ہو تا ہے جب خدا تعالیٰ دل میں ڈال دے ایمان کے لوازم اور ہوتے ہیں اور