جب ایسے لوگ دیکھ لیویں کہ عافیت تو صرف خدا کے ایک ماننے والوں کے پاس ہے تو ان کو ایمان سے کو نسی شئے روک سکتی ہے ؟ (البدرؔجلد ۲ نمبر ۱۹ صفحہ ۱۴۵مورخہ ۲۹؍مئی ۱۹۰۳؁ئ) ۱۴؍مئی ۱۹۰۳؁ء وقت ِظہر نجات کے واسطے اعمال کی ضرورت ہے َ ایک ذکر پر فرمایا کہ:۔ صدق اور عاجز ی کام آتی ہے مگر یہ کدی کا اختیار نہیں ہے کہ کسی کو ہاتھ ڈال کر سیدھا کر دیو ے ہر ایک انسان کی نجات کے واسطے اس کے اپنے اعمال کا ہو نا ضروری ہے بوستاں میں ایک حکا یت لکھی ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک اہل اللہ کو کہا کہ میرے لیے دعا کرو کہ مَیں اچھا ہو جاؤں اس نے جواب دیا کہ میرے ایک کی دعا کیا کام کرے گی جبکہ ہزاروں بے گناہ قیدی تیرے لیے بددعا کرتے ہیں اس نے سنکر تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا ۔ مجلس قبل ازعشاء فرمایا کہ:۔ اس وقت صدہا فرقے ہیں اگر ایک الہیٰ فرقہ بھی ہو گیا تو کیا حرج ہے؟ خدا معلوم کیوں ان لوگوعں نے شور مچا رکھا ہے ہمارا خدا بائیس برس سے زیادہ عرصہ سے ہماری امداد کر رہا ہے اور ان لوگوں کی پیش نہ گئی بد دعا کرتے کر تے انکے ناک بھی کھس گئے اور ہمیں تجربہ ہے کہ ہمارا وہی خدا ہے جس کی کلام ہم پر نازل ہو تی ہے اب اس کے مقابل پر ان کے ظنیات کس کام کے ہیں ؟ جس حکم کے وہ منتظر ہیں آخر اس نے بھی آکر ایک ہی فرقہ بنا نا ہے ان کی باتوں کا اکثر حصہ آکر وہ رد کر یگا تو ہی ایک فرقہ بنا سکے گا پھر کیوں تقویٰ اجازت نہیں دیتا کہ ان کی باتیں رد کی جاویں؟ تکاب اللہ ہمارے ساتھ ہے حدیث بھی پکی سے پکی ہمارے ساتھ ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت مسیحؑ کو مردوں میںمعراج کی رات دیکھ کر آئے ادھر خدا کی قولی شہادت ادھر آنحضرتﷺ کی فعلی شہادت کہ مسیحؑ فوت ہو گئے ۔ قاعد ہ کی بات ہے کہ محبت اور ایمان کے لیے اسباب ہو تے ہیں مسیحؑ کی زندگی پر نظر کرو تو معلوم ہو گا کہ ساری عمر دھکے کھا تے رہے صلیب پر چڑھنا بھی مشتبہ رہا ادھر ایک لمبا سلسلہ عمراور سوانح آنحضرتﷺ