پس انسان کو چا ہیئے کہ ہر دم اپنے آپ کو دیکھے کہ مَیں کیسا ہیچ ہوں میری کیا ہستی ہے ہر ایک انسان خواہ کتنا ہی عالی نسب ہو مگر جب وہ اپنے آپ کو دیکھے گا ۔بہر نہج وہ کسی نہ کسی پہلو میں طیکہ آنکھیں رکھتا ہو۔ تمام کا نئات سے اپنے آپ کوضرور با لضرور قابل وہیچ جان لیگا انسان جب تک ایک غریب وبیکس بڑھیا کے ساتھ وہ اخلاق نہ ہو تے جوآپ اعلیٰ نسب عالی جاہ انسان کے ساتھ برتتا ہے یا بر تنے چا ہیں اور ہر ایک طرح کے غرور عونت وکبر سے اپنے آپ کو نہ بچا وے وہ ہر گز خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ ۲؎
دعا
جس قدر نیک اخلاق ہیں تھوڑی سی کمی بیشی سے وہ بداخلاقی میں بدل جاتے ہیں اللہ جلشانہ نے جودروازہ اپنی مخلوق کی بھلا ئی کے لیے کھو لا ہے وہ ایک ہی ہے یعنی دعا کی چادر پہنا دیتا ہے اور اپنی عظمت کا غلبہ اس پر اس قدر کردیتا ہے کہ بیجا کا موںاور نا کارہ حرکتوں سے وہ کوسوں بھاگ جاتا ہے کیا سبب ہے کہ انسان باوجود خدا کو ماننے کے بھی گناہ سے پر ہیز نہیں کرتا؟ دوحقیقت اس میں دہر یت کی ایک رگ ہے اور اس کو پورا پورا یقین اور ایمان اللہ تعالیٰ پر نہیں ہو تا ورنہ اگر وہ جا نتا کہ کو ئی خدا ہے جو حساب کتاب لینے والا ہے اور ایک آن میں اس کو تباہ کر سکتا ہے تو وہ کیسے بدی کر سکتا ہے اس لیے حدیث شریف میں وارد ہے کہ کو ئی چور چوری نہیں کرتا اورآنحالیکہ وہ مومن ہے اور کو ئی زانی زنا نہیں کرتا دوآنحا لیکہ وہ مومن ہے بدکرداریوں سے نجات اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جبکہ یہ بصیرت اور معرفت پیدا ہو کہ خدا تعالیٰ کا غضب ایک ہلات کر نے والی بجلی کی طرح گرتا اور بھسم کر نے والی آگ کی طرح تباہ کرت دیتا ہے تب عظمت الہیٰ دل پر ایسی مستولہ ہو جاتی ہے کہ سب افعال بداندار ہی اندر گداز ہو جاتے ہیں ۔
نجات
پس نجات معرفت میں ہی ہے معرفت ہی سی محبت بڑھتی ہے اس لیے سب سے اول معرفت کا ہو نا ضروری ہے محبت کے زیادہ کر نے والی دو چیز یں ہیں حسن اور احسان جس سخص کو اللہ جلشانہ کا حسن اور احسان معلوم نہیں وہ کیا محبت کر یگا ؟چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
ولا ید خلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (الاعراف :۴۱)
داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نی گذر جائے مفسرین اس کا مطلب ظاہر ی طور پر لیتے ہیں مگر میں یہی کہتا ہوں کہ نجات کے طبگار کو کدا تعالیی کی راہ میں نفس کے شتر بے مہار کو مجاہدات سے ایسا دبلا کر دینا چا ہیئے کہ وہ سوئی کے ناکہ میں سے گذر جائیے جب تک نفس دینوی لذائذ وشہوانی خطوظ