مثلاً رُوح جیسے انسان کے اندر داخل ہوتی معلوم نہیں ہو تی ویسے ہی اس میں سے خارج ہو تی بھی معلوم نہیں ۲؎ ہو تی۔انسان کو ہر حال میں رضاء الہیٰ پر چلنا چاہیئے اور کار خانہ الہیٰ میں دخل در معقولات نہیں دینا چاہیئے ۔تقوی اور طہارت ،اطاعت ووفا میں تر قی کر نی چاہیئے اور یہ سب باتیں تب ممکن ہیں جب انسان کامل ایمان اور یقین سے ثابت قدم رہے اور صدق واخلاص اپنے مولا کریم سے دکھلائے اور وہ باتیں جو علم الہیٰ میں مخفی ہیں اس کی کُنہ کے معلوم کرنے میں بیسود کوشش نہ کرے ۳؎ مثلاًہلیلہ قبض کو دور کر تی ہے اورسم ا لفار ہلاک کرتا ہے اب کیا ضرورت پڑی ہے کہ بے فائدہ اس دھت میں بھاگا پھرے کہ کونسی شے ہے جو یہ اثر کر تی ہے ۔طبیب کا کام ہے کہ اُن کے خواص کو معلوم کرے۔
اور یہ سوال کہ کیوں یہ خواص پیدا ہو گئے حوالہ بخدا کرے جو شخص ہر ایک چیز کے خواص وماہیت دریافت کے نے کے پیچھے لگ جاتا ہے وہ نادانی سے کارخانہ رنی اور اس کے منشاء سے بالکل ناواقف ونابلد ہے ۔
ملائکہ اور شیطان
اگر کوئی کہے کہ ملائکہ اور شیطان دکھلاؤ تو کہنا چاہیئے کہ تمہارے اندر یہ خواص کہ بیٹھے بٹھائے آناً فاناًبدی کی طرف متوجہ ہو جا نا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی ذات سے بھی منکر ہو جانا اور کبھی نیکی میں ترقی کرنا اور انتہا درجہ کی انکساری و فروتنی وعجز ونیاز میں گِر جانا یہ اندرونی کششیں جو تمہارے اندر موجود ہیں ان سب کے محرک جو قویٰ ہیں وہ ان دوالفاظ ملک وشیطان کے وجود میں مجسم ہیں ۔
سعادت اسی میں ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لایا جاوے اور اس کو حاضر و ناظر یقین کیا جاوے اور اس کی عین موجودگی کا تصور دل میں رکھ کر ہر ایک بدی وناراستی سے پر ہیز کیا جاوے ۔یہی بڑی دانش وحکمت ہے اور یہی معرفت ِالہیٰ کا سیراب کر نے والا شیریں سوتہ ہے جس سے اور جس کے لیے اہل اللہ ایک ریگستان کے پیاسے کی طرح آگے بڑھ کر خوش مزگی سے پیتے ہیں اور یہی وہ آبِ کوثر ہے جو مولائے کریم رسول اللہ ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے اپنے اولیاء اصفیا کو ہلاتا ہے ۔
مومن چونکہ خداتعالیٰ کی معرفت کا محتاج ہے اور ہر کوئی اس کی طرف نظر اُٹھائے دیکھ رہا ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے بھی یہ دروازہ پورے طور پر کھولا ہو ہے جوں جوں انسان اس راہ میں کوشش کر یگا توں توں