استغفار ہے اور درود شریف ،تمام وظائف اور اَوراد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر قسم کے غم وہم دور ہو تے ہیں اور مشکلات حل ہو تی ہیں
آنحضرت ﷺ کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے اور اسی لیے فر مایا ہے
الا بذکر اللہ تطمئن القلوب
اطمینان وسکینتِ قلب کے لیے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں ۔لوگوں نے قسمِ قسمِ کے ورد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی شریعت آنحضرت ﷺ کی شعیعت کے مقابلہ میں بنادی ہوئی ہے۔مجھ پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ میَں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر میَں دیکھتا ہو ں اور حٰرت سے دیکھتاہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں ان وظائف اور اَورادمیں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں ۔بعض لوگ دیکتے جاتے ہیں کہ اپنے معمول اور اَوراد میں ایسے منہمک ہو تے ہیں کہ نمازوں کو بھی لحاظ نہیں رکھتے ۔میَں نے مولوی صاحب سے سُنا ہے کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے ۔نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہیئے اور سمجھ سمجھ کر پڑ ھو اور مسنون دُعاؤں کے بعد اپنے لیے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی ۔نماز یاد الہی کا ذریعہ ہے ۔اس لیے فر مایا ہے
اقم الصلوہ لذکری (طہ:۱۵)
قبرستان میں جانا
سوال:۔ قبرستان میں جانا جائز ہے یا ناجائز؟
جواب :۔نذر ونیاز کے لیے قبروں پر جانا اور وہاں جاکر منتیں مانگنا درست نہیں ہے ہاں وہاں جاکر عبرت سیکھے اور اپنی موت کو یاد کرے تو جائز ہے ۔قبروں کے پختہ بنانے کی ممانعت ہے البتہ اگر میّت کو محفوظ رکھنے کی نیت سے یو تو ہر ج نہیں ہے یعنی ایسی جگہ جہاں سیلاب وغیرہ کا اندیشہ ہو اور اس میں بھی تکلفات جائز نہیں ہیں ۔ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۰ صفحہ ۹ مورخہ ا۳مئی ۱۹۰۳ئ)
۱۰ مئی ۱۹۰۳ء
صبح کی سیر
مامور کا زمانہ ایک قیامت ہو تا ہے
فر فر یق فی الجنۃ و فریق فی السعیر (شوری :۸)
خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ جیسے ایک طرف بغض و حسد