معاملات میں شرافت کا بر تاؤ ہو اکرتا ہے ۔ان کو لازم تاھ کہ ایسی باتیں نہ کرتے جو آپس کی شکر رنجی کا موجب ہو تیں اس مینار کی بنیاد پر گیارہ سو روپیہ خرچ آیا ہے ۔تین برس سے اس کا ابتدائی کا م شروع ہے چنانچہ ’’الحکم‘‘میں اس کا علان موجود ہے اگر ہماراچار ہزار روپے کا نقصان ہو پھر ان کو یہ روپیہ مل جاوے تو بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ خیر ہمسائیوں کو فائدہ پہنچا ۔لیکن ابھی تو مینار خیالی پلاؤ ہے جوں جوں روپیہ آویگا بنتا رہے گا جب وہ مکمل ہو جاوے تو پھر کوئی اعتراض کی بات ہو تو اعتراض ہو سکتا ہے ۔
میں ایسا فعل کیوں کرنے لگاجس سے اَوروں کو بھی نقصان ہو اور مجھے بھی ۔ہماری پردہ داری سب سے اعلیٰ ہے اگر کوئی مینار پر چڑھے گا جیسے اَوروں کے گھر میں نظر پڑسکتی ہے ویسی ہی ہمارے گھر میں بھی پڑ سکتی ہے تو کیا ہم گوارا کریں گے کہ یہ بات ہو ؟بہر حال جب یہ بن جاویگا تو لوگ سمجھ لیویں گے کہ اُ ن کو اس سے کس قدر فائدہ ہے ۔ (البدرجلد ۲ نمبر ۱۸ صفحہ۱۳۸، ۱۳۹ مورخہ۲۲ ؍مئی ۱۹۰۳ئ)
گوشت خوری
چونکہ انسان جلالی جمالی دونو رنگ رکھتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ وہ گوشت بھی کھائے اور دال بھی کھائے ۔ ۱۹۰۰/ ۱۰/ ۲۲ ۱؎
بلا تاریخ
اچھوتا نکتہ
عبادت اور احکام ِالہیٰ کی دو شاخیںہیں ۔تعظیم لامراللہ اور ہمدردی مخلوق ۔مَیں سوچتا تھا کہ قرآن شریف میں تو کثرت کے ساتھ اور بڑی وضاحت سے ان مراتب کو بیان کیا گیا ہے سورۃ فاتحہ میں ان دونوں شقوں کو کس طرتح بیان کیا گیا ہے مَیں سوچتا ہی تھا کہ فی الفور میرے دل میں یہ بات آئی کہ
الحمدللہ رب العالمین۔ الر حمن الرحیم ۔ملک یوم الدین
سے ہی یہ ثابت ہو تا ہے یعنی ساری صفتیں اور تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں جو رب العا لمین ہے یعنی ہر عالم میں نطفہ میں اور مضغہ وغیرہ میں سارے عالموں کا رب ہے ۔پھر رحمن ہے پھر رحیم ہے اور مالک یوم الدین ہے اب اس کے بعد
ایا ک نعبد
جو کہتا ہے تو گویا اس عبادت میں وہی ربو بیت ۔ رحمانیت ۔رحمییت ۔مالک یوم الدین کی صفات کا پر تو انسان کو اپنے اندر لینا چا ہیئے کیو نکہ کمال عابد انسان کا یہی ہے
تخلقوا