نے لکھا ہے کہ یہ اپنی عمر پوری کر کے خود بخود ہی چھوڑ جاتی ہے ۔
طاعون کا باعث
سوال ہوا کہ طاعون کا اصل باعث کیا ہے ؟فرمایا کہ:۔
مَیںاس مجلس میں اس ذکر اس لیے پسند نہیں کرتا کہ مذہبی رنگ کے مسائل کو لوگ کم سمجھتے ہیں حقیقت میں جو لوگ خدا پر ایمان لائے ہیں وہ جا نتے ہین کہ یہ اس کی نافرمانی کا نتیجہ ہے قاعدہ کی بات ہے جب انسان اپنی عقل پر بہت بھروسہ کرتا ہے تو ہر شیئی کا انکارکر دیتا ہے حتیٰ کہ خدا تعالیٰ سے بھی منکر ہو جاتا ہے مَیں دیکھتا ہوں کہ آج کے جنٹلمین دنیی بات کرنے والے کو بیوقوف کہہ دیتے ہیں لیکن یقین ہے کہ اب زمانہ خود بخود مئود ب ہو جائے گا نرے ارضی اسباب ہی اس طاعون کے موجد نہیں ہیں آخر اس کے کیڑے کسی پیدا کرنے والے کی وجی سے ہی پیدا ہو ئے ہیں اور وہ زمانہ قریب ہے کہ لوگوں کو اس کی ہستی کا پتہ لگ جاویگا ابھی تک لوگوں کو عبرت کامل نہیں ہو ئی ہے طاعون کی گذشتہ چال سے پتہ چلتا ہے کہ اول عوام پر پھر خواص پر پھر ملوک پر حملہ کرتی ہے اور اس کے اصل اسباب کا معمہ تو خدا خود ہی کھو لے گا مَیں نے اس کی خبرآج سے بائیس سال پیشتر دی ہے پھر سات سال کے بعد دی پھر اس وسقت دی جب ایک دوضلوں میں یہ تھی قرآن میں انجیل میں،دانیال نبی کی کتاب میں اس کاذکر ہے غرض ازوقت ہم اس کی نسبت کھل کر بات نہیں کرتے کیو نکہ اس پرہنسی کی جاوے گی جب خدا تعالیٰ اس کا پورا دورہ خود ختم کرے گا تو اس وقت آپ ہی لوگوں کو پتہ لگ جاوے گا ۔
اطباء نے لکھا ہے کہ جب موسم جاڑے یا گرمی کی طرف حرکت کرتا ہے تواس وقت یہ زیادہ ہو تی ہے مگر ابھی موسم اتنی شدت گر می کا نہیں ہے لیکن اگر مئی کے گذرنے پر یہی حال رہا تو شاید یہ قاعدہ بھی ٹوٹ جاوے مگر اصل بات کا علم تو خدا تعالیٰ ہی کوہے ۔
اکثر جگہ چو ہے کثرت سے مرتے ہیں تو وہاں طاعون کا اندیشہ ہو تا ہے مگر ہمارے گھر میں دو بلیاں ہیں اور وہ کو ئی چو ہا نہیں چھوڑ تیں شاید یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک علاج ہو۔
طاعون کا حقیقی علاج
سوال ہواپھر اس کا علاج کیا ہے ؟فرمایا :۔
ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ بجز تقویٰ طہارت اور رجوع الیٰ اللہ کے اور کو ئی چارہ نہیں گو لوگ اسے دیوانہ پن سمجھتے ہیں مگر بات یہ ہے کہ دنیا خود بخود نہیں ہے ایک خا لق اور مدبر کے ماتحت یہ چل رہی ہے جب وہ دیکھتا ہے۔ کہ زمین پر پاب اور گناہ بہت بڑھ گیا ہے تو وہ تنبہیہ نازل کرتا ہے۔ اور جب رجوع الیٰ اللہ ہو تو پھر اسے اٹھا لیتا ہے لیکن دیکھا جاتا ہے کہ لوگ بہت بیباک ہیں اور ان کو ابھی تک کچھ پروا نہیں ہے ۔