بد لے سَو آجاتے ہیں انجام ہمیشہ کے واسطے ہی ہو تا ہے اگر خدا تعالیٰ ایسا کھلا کھلا فرق کر دیوے تو میں نہیں جا نتا کہ مذہبی اختلاف ایک ذرہ بھر بھی رہ جاوے حالا نکہ اس اختلاف کا قیامت تک ہو نا ضروری ہے ۔ بعض لوگ ہماری جماعت میں سے بھی غلطی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی نہ مر یگا یہ ان کو مغالطہ لگا ہے ایسا ہر گز ہو نہیں سکتا اگر چہ ایک حد تک خدا تعالیٰ نے وعدے کئے ہو ئے ہیں مگر ان کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ جماعت سے مطلقاً کو ئی بھی نشانہ طاعون نہ ہو یہ بات ہماری جماعت کو خوب یادرکھنی چا ہیئے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہر گز نہیں ہے کہ تم میں سے کو ئی بھی نہ مر یگا ہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے ماما ینفع الناس فیمکث فی الا رض (الد عد:۱۸) پس جو شخص اپنے وجود کو نا فع الناس بناویں گے ان کی عمر یں خدا تعالیٰ زیادہ کر یگا خدا تعالیٰ کی مخلوق پر شفقت بہت کرو اور حقوق العباد کی بجاآوری پورے طور پر بجالانی چا ہیئے ۔ نوحؑ اور مسیح موعود کے حالات کا فرق اعتراض ہوا نوحؑ کی کشتی پر چڑھنے والے سب کے سب طوفان سے محفوظ رہے تھے تو کیا وجہ ہے کہ جو لوگ یہاں بیعت میں ہیں وہ محفوظ نہ رہیں۔ جواب۔ فرمایا کہ ’’ ہمارا سلسلہ آنحضرتﷺ کے قدم برقدم ہے نوحؑ کے وقت ایمان کا دروازہ بند ہو چکا تھا اور اس وقت کو ئی التباس ایمان کا نہ تھا مگر اب ہے نوحؑ کے وقت یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ اب قوم تو ضرور ہلاک ہو نے والی ہے خواہ ایمان لاوے خواہ نہ لاوے مگر آنحضرت ﷺ کے وقت مہلت دی گئی کہ جو تو بہ کریگا وہ بچ جاویگا چنا نچہ آنحضرتﷺ نے عین قتل کے وقت فرمایا کہ اگر کو ئی ایمان لاوے تو تلواروک لی جاوے مگر نوحؑ کی قوم کے واسطے تھا کہ صرف کشتی والے بچا ئے جاویں گے باقی سب تباہ اور ہلاک ہون گے وہ صورت خاص اور الگ تھی اور اعتراض تو کود نوحؑ پر بھی تھا کہ اس نے کہا تھا کہ میرے اہل بچے رہیں گے مگر پھر بھی مخالفوں کوو یہ کہنے کی گنجائش رہی کہ نوحؑ اپنے نیٹے کو نہ بچا سکا معلوم ہوتا ہے کہ نوحؑ کو بھی شبہ پیدا ہوا تھا تب ہی تو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے زجر ہوا پھر دیکھو جاوجود نبی ہو نے کے ان کو دھوکا لگا اور یہ معاملہ اسی طرح سے ہوا کہ مخالفین تو در کنا ر خود نوحؑ کو ہی شکوک پیدا ہو گئے خدا تعالیٰ اپنے رعب اور خوف کو دور نہیں کرنا چا ہتا اگر آج وہ کھلا وعدہ دے دے کہ جماعت میں سے کوئی نہ مریگا تو پھر اس کا خوف دلوں میں نہ رہے جہاں خاص گھر کا اس نے وعدہ کیا ہے کہ انی احافظ کل من فی الدار وہاں بھی ایک فقرہ ساتھ رکھ دیا ہے کہ الا الذین علو اباستکبار۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا رجوع کب ہو گا؟ فرما یا :۔ دیکھو بچہ جب پیٹ میں ہو تا ہے تو