تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے اچھا ہے ۔ ۸ مئی ۱۹۰۳؁ء مجلس قبل از عشاء محمد حسین بٹالوی اور قرآن کریم کی بے ادبی بہ ظاہرتُک بندی تومسیلمہ نے بھی کر لی تھی اس میں قرآن شریف کی خصو صیت کیا ہے یہ ایک کلمہ ہے جو کہ محمد حسین بٹالوی اوّل المکفّرین کی قلم سے قرآن کریم کی شان میں نکلا ہے ۔اس پر حضرت اقدس نے فر مایاکہ :۔ اس سے بڑھ کر کیا بے ادبی ہو گی کہ قرآن شر یف کی آیا ت کو جوکہ ہر ایک پہلو اور ہر ایک رنگ کیا بلحاظ ظاہر اور بلحاظ باطن کے معجزہ ہے۔ تُک بندی کہا جاتا ہے ۔جیسے قرآن شریف کا باطن معجزہ ہے ویسے ہی اس کے ظاہر الفاظ اور تر تیب بھی معجزہ ہے ۔اگر ہم اس کے ظاہر کو معجزہ نہ مانیں تو پھر باطن کے معجزہ ہو نے کی دلیل کیا ہو گی ؟ایک انسان کا اگر ظاہر بھی گندہ ناپاک اور خبیث ہو گا تو اس کی رُوحانی حالت کیسے اچھی ہو سکتی ہے ؟عوام الناس اور موٹی نظر والوں کے واسطے تو ظاہری خوبی ہی معجزہ ہو سکتی ہے اور چونکہ قرآن ہر ایک قسم کے طبقہ کے لوگوں کے واسطے ہے اس لیے ہر ایک رنگ میں معجزہ ہے ۔مامور من اللہ کی عداوت کا نتیجہ کفر تک پہنچا دیتا ہے ۔ (البدرؔ جلد ۲نمبر۱۸ صفحہ۱۳۷۔۱۳۸ مورخہ ۲۲؍مئی ۱۹۰۳؁ئ) (الحکمؔ جلد ۷نمبر۱۸ صفحہ۲ مورخہ ۷؍مئی ۱۹۰۳؁ئ) ۹ مئی ۱۹۰۳؁ء بوقت سیر وباکے علاقے سے نکلنا عام لوگوں کا خیال ہے کہ وبا سے بھا گنا نہ چا ہیئے یہ لوگ غلطی کر تے ہیں آنحضرت ﷺ نے فر ما یا ہے کہ اگر وبا کی ابتداہوا ہو تو بھاگ جانا چا ہیئے اور اگر کثرت سے ہو تو پھر نہیں بھا گنا چا ہیئے جس جگہ وبا ابھی شروع نہیں ہو ئی تب تلک اس حصہ والے