تحصیل حاصل؟
سوال جب ایک شخص نے ایک بات تحصیل کی ہے تو دوبارہ اسی کے تحصیل کر نے سے کیا حاصل ہے؟
جواب ۔ہم اس اصول کو لا نسلم کہتے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے قرآن میں لکھا ہے ۔
الست بربکم قالو ابلی ۔(الاعراف :۱۷۳)
یعنی جب روحوں سے خدا تعالیٰ نے سوال کیا کہ کیا مَیں تمہارا رب نہیں ہوں تو وہ بولیں کہ ہاں تواب سوال ہو سکتا ہے کہ روحوں کو علم تو تھا تو پھر انبیا ء کو خدا تعالیی نے کیوں بھیجا گو یا تحصیل حاصل کروائی یہ اصل میں غلط ہتے ایک تحصیل پھیکی ہو تی ہے ایک گا ڑھی ہو تی ہے دونو میں فق ہو تا ہے وہ علم جو کہ نبیوں سے ملتا ہے اس کی تین اقسام ہیں۔
علم الیقین ۔عینؔ الیقین ۔حق الیقین
اس کی مثال یہ ہے جیسے ایک شخص دور سے دھواں دیکھے تو اسے علم ہو گا کہ وہاں آگ ہے کیو نکہ وہ جانتا ہے کہ جہاں آگ ہو تی ہے وہاں دھواں بھی ہوتا ہے اور ہر ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں ۔یہ بھی ایک قسم کا علم ہے جس کا نام علم الیقین ہے مگر اور نز دیک جا کر وہ اس آگ کو آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے تو اُسے عین الیقین کہتے ہیں ۔پھر اگر اپنا ہاتھ اس آگ پر کر اس کی حرارت وغیرہ کو بھی دیکھ لیوے ۔تو اُسے کوئی شبہ اس کے بارے میں نہ رہے گا اورا س طرح سے جو علم اُسے حا صل ہو گا اس کا نام حق الیقین ہے اب کیا ہم اسے تحصیل حا صل کہہ سکتے ہیں ۔ہر گز نہیں ۔ ۱ ؎ (البدر ؔ جلد۲نمبر۱۸ صفحہ۱۳۷ مورخہ ۲۲؍مئی ۱۹۰۳ئ)
در بار شام
نزولِ وحی کا طریق
فر مایا کہ
وحی کا قاعدہ ہے کہ ا جمالی رنگ میں نازل ہو ا کرتی ہے اور اس کیساتھ ایک تفہیم ہو تی ہے مثلاًجب آنحضرت ﷺ کو نماز پڑھنے کا حکم ہو اتو ساتھ کشفی رنگ میں نماز کا طریق اس کی رکعات کی تعداد ،اوقات نماز وغیرہ بتادیا گیا تھا ۔علی ہذ االقیاس ۔
جو اصطلاح اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے اس کی تفصیل اور تشریح کشفی رنگ میں ساتھ ہو تی ہے جن لوگوں کو وہ