عیسیٰؑ یہود کے مقابل میں حق پڑ تھے تو ہمارا معاملہ بھی صاف ہے ورنہ پہلے حضرت عیسیٰؑ کی نبوت کا انکار کریں بعد مین ہمارا معاملہ آئے گا۔ اگر واقعی طور پر ان یہودیوں کی طرح یہ یہودی بھی حق پر ہیں تو پھر اول تو حضرت عیسیٰؑ علیہ السلام کی نبوت کا ثبوت نہیں توان کا آسمان سے آنا کجا؟ پس یاتو یہ مسلمان اس باتے کو مان لیں کہ آسمان پر کو ئی شخص زندہ نہیں جا یا کرتا اورنہ ہی وہ دربارہ واپس آیا کرتا ہے اور وہ اسی قاعدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ کو دوسرے انبیاء کی طرح وفات پائے ہو ئے مان لیں اور یا حضرت عیسیٰؑ کی نبوت سے انکار کر یں اور اس طرح پر ان کی آمد کے متعلق تمام امیدوں سے ہاتھو دھولیں غرض ان کی منفرد اور خا ص قسم کی زندگی ایک خطرناک قسم کا شرک ہے غرض دوسری قسم کے دلائل عقلی تھے سوان کی رو سے بھی یہ قوم ملزم ہے ۔ ۱ ؎ (۳) تیسرا ذریعہ ایک صادق کی شناخت کااس کے ذاتی نشانات اور خارق عادت پیشگوئیاں ہو تی ہیں اور منہاج نبوت پر رکھی جا تی ہے سواس قسم کے دلائل بھی اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بہت جمع کر دئیے ہیں کیا زمینی ،کیا آسمانی ،کیا مکانی ،کیا زمانی ،ہر قسم کے نشانات اس نے خود ہمارے لیے ظاہر فر مائے ہیں آنحضرت ﷺ کی اکثر پیشگوئیوں کا ظہور بھی ہو چکا ہے آسمان نے ہمارے لیے گو اہی دی زمین ہمارے واسطے شہادت لا ئی اور ہزاروں خارق عادت ظہور میں آچکے ہیں زمانہ سووہ زبانِحال سے چلا رہا ہے کہ ضرور کو ئی آنا چا ہیئے قوم کے ۷۳ فرقے ہو چکے ہیں یہ خودایک حکم کو چاہتے ہیں ان تمام فرقوں میں ایسے ایسے اختلاف پڑے ہیں کہ ایک دوسرے کو تکفیر کے فتوے لگا ئے جا تے ہیں اور ارتداد کا جرم ان میں سے ہر ایک کی گردن پر سوارہے خفی وہابیوں کو اور وہابی خفیوں کی جہنمی بتا تے ہیں شیعہ ان سب کو راہ راست سے بٹکھے ہو ئے کہتے ہیں خارجی ہیںسووہ شیعہ کی جان کے دشمن ہیں غرض ہر ایک فرقہ دوسروں کے خون کا پیاسا ہے اب ان میں اختلاف کو دور کرنے کے واسطے جو حکم آوے گا کیا وہ ان کی مساوی باتوں کو مان لے گا؟اگر ایسا کر یگا تو دوسرا ناراض ہو جاوے گا یہاں ہرایک فرقہ یہی چاہتا ہے کہ میری اگر ساری باتیں وہ نہ مانے گا تو وہ خدا کی طرف سے نہ ہو گا غرض ہرایک نے اس کے صدق کا معیار اپنے تمام عقائد کو مان لینا مقرر کیا ہو ہے مگر کیا وہ ایسا ہی کر یگا ؟ہر گز نہیں بلکہ وہ ہر ایک راستی کا حامی اور ناراستی کا دشمن ہو گا اگر ایسا نہیں تووہ حکم ہی کس کام کا ہوا ؟اور ایسے کی ضرورت ہی کیا ہے اس کے وجود سے عدم بہتر ہے ۔ اصل مشکل یہ ہے کہ ان بیچا رے لوگوں کی عادت ہی ہو گئی ہے اور بچپن سے کان میں ہی یہی پڑتا آیا ہے کہ وہ اس طرح آسمان سے ایک مینار پر اترے گا پھر سیڑھی مانگیگا اور دوفرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ