انوار سے محروم بھی رکھتا ہے ورنہ ہمارا معاملہ تو نہایت ہی صاف اور کھلا کھلا ہے کیسے ہی دلائل اور براہین سے ایک امر کو مدلل کر کے کیوں نہ بیان کیا جاوے عادت ورسم کا پا بندضرور اس کے ماننے میں پس وپیش کر یگا اور جب تک وہ اس حجاب کو چھا ڑ کر باہر نہ نکلے اسے حق لینا نصیب ہی نہیں ہو تا ۔ آنحضرتﷺ کی صداقت کیسی اجلیٰ اور اصفیٰ تھی مگر ان کے دعویٰ کے وقت بھی عیسائی راہبوں اور یہودی مولویوں نے جو عادت اور رسم کے پا بند تھے ہزاروں عذر تراشے اور آپ کو صادق کہنے کی بجائے کاذب کا خطاب دیا گو یا رسم اور عادت کی لمت نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈالاہواتھا کہ وہ نور کو ظلمت کہتے تھے ورنہ آپ کے معجزات ،بینات اور فیوض اس قدر کامل اور اعلیٰ تھے کہ کسی کوان سے انکار ممکن نہ تھا ۱؎ تسلی پانے کے تین طریق اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہر ایک قسم کے دالا ئل بینات ہمارے واسطے جمع کر دئیے ہیں انسان کے تسلی پانے کے تین ہی طریق ہوا کرتے ہیں ۔ (۱) اول نقلی دلائل۔سورۃقرآن شریف کے نصوص سے ثابت ہیں کیو نکہ جو شخص قرآن شریف کو کلام الہیٰ مانتا ہے ہے اسے تو اس بن چارہ نہیں بلکہ اس کاایمان ہی کلام ِالہیٰ کے بغیر ناقص ہے۔ ۲؎ نقلی دلائل کا دوسا حصہ احادیث ہیں سوان میں سے وہ احادیث قابل پذیرائی ہیں جوقرآن شریف کے