آنحضرت ﷺ کو فر یبی کہا ایسے لوگوں کی فطرت بد ہوا کرتی ہے اسی لیے کہا ہے ؎
اے بسا ابلیس آدم رؤے ہست ؛ پس بہر دسرت نہ باید داد دست
یہ بھی نہ ہو کہ سب کو فریبی جان لے نہ بدظنی کو اتنا وسیع کر ے کہ راستبازوں کے فیوض سے محروم رہے نہ اس قدر حسنِ ظن کہ ایک مکار اور فریبی کو بھی خدا رسیدہ جان لے سچے دل سے دعا کرتا ہے انبیاء وغیرہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے ہو تے ہیں جب تک خدا نہ دکھا وے کو ئی ان کو دیکھ نہیں سکتا ابو جہل مکہ میں ہی رہتا تھا آنحضرتﷺ کا نشوونما دیکھتا رہا آپ کی ساری زند گی دیکھی مگر پھر بھی ایمان نہ لا یا ۔
کہتے ہیں کہ سلطان محمود ایک راجہ کو گر فتا ر کر کے اپنے ساتھ لے گیا وہ راجہ کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہ کر آخر کار اپنے مذہب اور اسلام کا مقابلہ کر کے مسلمان ہو گیا الگ خیمہ میں وہ رہا کرتا تھا ایک دن وہ بیٹھا ہوا رورہا تھا کہ خیمہ کے پاس سے محمود گذرا اس نے رونے کی آواز سنی اندر آیا ۔پو چھا کہ اگر وطن یاد آیا ہے تو وہیں کا راجہ بنا کر بھیج دیتا ہوں اس نے کہا ابن مجھے دنیا کی ہوس کو ئی نہیں اس وقت مجھے یہ خیال آیا ہے کہ قیامت کے دن اگر یہ سوال ہوا کہ تو کیسا مسلمان ہے کہ جب تک محمود نے چڑھا ئی نہ کی اور وہ گر فتار کر کے تجھ کو نہ لا یا تو مسلمان نہ ہوا کیا اچھا ہوتا کہ مجھے اسوقت ابتدا میں سمجھ آجا تی کہ اسلام سچا مذہب ہے ۔
مخالفت کا جنازہ
ایک صاحب نے پو چھا ۱؎ کہ ہمارے گاؤں میں طاعون ہے اور اکثرمخالف مکذب مرتے ہیں ان کا جنازہ پڑھا جاوے کہ نہ ؟فر ما یا کہ :۔
یہ فرض کفایہ ہے اگر کنبہ میں سے ایک آدمی بھی چلا جاوے تو ہو جا تا ہے مگر اب یہاں ایک تو طاعون ذدہ ہے کہ جس کے پاس جانے سے خدا روکتا ہے دوسرے وہ مخالف ہے ۔خواہ نخواہ تد اخل جائز نہیں ہے ۔ خدا فر ماتاہے کہ تم ایسے لوگوں کو بالکل چھوڑدو اور اگر وہ چا ہے گا توان کو خود دوست بناوے گا یعنی مسلمان ہو جاویں گے خدا تعالیٰ نے منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو چلا یا ہے مداہنہ سے ہر گز فائدہ نہ ہو گا اپنا حصہ ایمان کا بھی گنواؤگے۔
مجلس قبل ازعشاء
توبہ کادروازہ بند ہو نا
طاعون پر ذکر ہوابعض مقامات بالکل تباہ ہوگئے ہیں مگر پھر بھی وہاںکے لوگوں کی فسق فجور کی وہی حالت ہے کو ئی پاک