جواب فرمایا کہ ایک بدکار آدمی کو بھی نیک خواب آجاتی ہے کیونکہ فطرتاً کوئی بد نہیں ہوتا خدا تعالیٰ فرماتا ہے ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات:۵۷) تو جب عبادت کے واسطے سب کو پیدا کیا ہے ۔سب کی فطرت میں نیکی بھی رکھی ہے ۔اور خواب نبوت کا حصّہ بھی ہے اگر یہ نمونہ ہر ایک کو نہ دیا جات تو پھر نبوت کے مفہوم کو سمجھنا تکلیف مالا یطاق ہوجاتا ۔اگر کسی کو علمِ غیب بتلایا جاتا وہ ہر گز نہ سمجھ سکتا ۔بادشاہِ مصر جو کہ کافر تھا اُسے سچی خواب آئی مگر آج کل سچی خواب کا انکا ر داراصل خدا تعالیٰ کا انکار ہے اور اصل میں خدا ہے اورضرور ہے ۔اسی کی طرف سے بشارتیں ہوتی ہیں اور نیک خوابیں آتیں ہیں اور وہ پوری بھی ہوتی ہیں جس قدر انسان صدق اور راستی میں ترقی کرتا ہے ویسے ہی نیک اور مبشر رئویا بھی آتے ہیں۔ حُسنِ عقیدت کیسے حاصل ہو سوال :۔مَیں ایک مسلمان ہوں اور مسلمانوں کی اولاد ہوں عام طور پر دنیا کو دیکھ کر حسن عقیدت کسی پر پیدا نہیں ہوتی۔یہاں کے لوگوں کا طرز زند گی دیکھ کر چا ہتا ں کہ حسن عقیدت ہو مگر پھر نہیں ہو تی اسکی کیا وجہ اور کیا علاج ہے؟ جواب :۔ فر ما یا کہ :۔ انسان ہمیشہ تجارت سے نیتجہ نکا لتا ہے اور عقل انسانی بھی بذریعہ تجارت کے تر قی رہتی ہے مثلاً انسا ن جا نتا ہے کہ انب کے درخت کا پھل میٹھا ہو تا ہے اور بعض درخت کے پھل کڑوے ہو تے ہیں تو اس تجربہ کثیر سے اسے ایک فہم حاصل ہو جا ویگا کہ انب کے پھل ضرور شیریں ہو تے ہیں اسی طرح چو نکہ تجربہ آج کل یہی ہو تا ہے کہ دنیا میں فسق وفجور اور مکر وفریب کا سلسلہ بڑھا ہوا ہے اس لیے اس کا خیال بند ھ جا تا ہے کہ ہر ایکفریبی اور مکاری ہی ہے سابقہ تجارب اسے تعلیم دیتے ہیں کہ ایسا ہی ہو نا چا ہیئے اسی وجہ سے حسن عقیدت کی جگہ بد عقیدگی پیدا ہو تی ہے اور اسی لیے لوگ انبیا ء پر بھی سوء ظن رکھتے آئے ہیں ۔مو سیؑ کی وفات کی دوہزار بر س گذر چکے تھے تو آنحضرتﷺمعبوث ہو ئے اور اس زما نے میں بہت سے جھو ٹے معجزات دکھا نے والے اور دعوے کر نے والے پیدا ہو ئے تھے لوگوں کو ان کا تجربی تھا اور ادی حالت میں یک لخت ایک صادق بھی آگیا ۔آخر ان کو اس صادق کو بھی وہی کہنا پڑا جوان جھو ٹے مد عیوں کے حق میں کہتے تھے یعنی ان ھذا لشی یداد(صؔ:۷) کہ یہ تو دکا نداری ہے غرضکہ انسان تجارت کے ذریعہ سے بھول رہے ہیں خدا تعالیٰ کے بندوں کی معرفت کا ہو نا یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے وہی معرفت دے تو پتہ لگتا ہے دعا بہت کرے دعا کے سوا چا رہ نہیں ہاں یہ امرضروری ہے کہ استغفار نہ کرے کہ نیک اور بد کو ایک جیسا جان لیوے اور کہے کہ جیسے برے درخت ہو تے ہیں ویسے ہی اچھے بھی ہو تے ہیں۔ یہ ایک قاعدہ اپنی طرف سے ہر گز بنا نا چا ہیئے بلکہ نفس کو یہ سمجھا نا چا ہیئے کہ اچھے بھی ضرورہیں جب شیطا ن کا گروہ اس قدر دنیا میں مو جود ہے کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ