کے وقت سب کے سب بھا گ گنے اور جو پاس رہ گیا اس نے لعنت بھیجنی شر وع کر دی ۔
اصل با ت یہ ہے کہ جب تک انسان اپنی خواہشوں اور اغراض سے الگ ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور نہیں آتا ہے وہ کچھ حاصل نہیں کرتا بلکہ اپنا نقصا ن کر تا ہے لیکن جب وہ تمام نفسانی خواہشات اور اعراض سے الگ ہو جا وے اور خالی ہا تھ اور صافی قالب لے کر خدا تعالیٰ کے حضور جا وے تو خدا اس کو دیتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کی دستگیری کر تا ہے مگر شرط یہی ہے کہ انسان مر نے کو تیا ر ہو جا وے اور اس کی راہ میں ذلت اور موت کو خیر باد کہنے والا بن جا وے ۔
اہل صدق ووفا کے لیے قبولیت وعظمت
دیکھو دنیا ایک فا نی چیز ہے مگر اس کی لذت بھی اسی کو ملتی ہے جواس کو خدا کے واسطے چھوڑتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کا مقرب ہو تا ہے خدا تعالیٰ دنیا میں اس کے لیے قبولیت پھیلا دیتا ہے یہ وہی قبولیت ہے جس کے لئے دنیا دار ہزاروں کو ششیں کر تے ہیں کہ کسی طرح کو ئی خطاب مل جا وے یا کسی عزت کی جگہ یا دربا ر میں کر سی ملے اور کر سی نشینوں میں نا م لکھا جا وے غرض تمام دنیوی عزتیں اسی کو د ی جا تی ہے اور ہر دل میں اسی کی عظمت اور قبولیت ڈال دی جا تی ہے جو خداتعالیٰ کے لیے سب کچھ چھوڑنے اور کھو نے پر آما دہ ہو جا تے ہیں نہ صرف آما دہ بلکہ چھوڑدیتے ہیں غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے واسطے کھو نے والوں کو سب کچھ دیا جا تا ہے ۱؎ اور وہ نہیں مرتے ہیں جب تک وہ اس سے کئی چند نہ پا لیں جو انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں دیا ہے خدا تعالیٰ کسی کا قرض اپنے ذمہ نہیں رکھتا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ ان با توں کو ما ننے والے اور ان کی حقیقت پر اطلاع پا نے والے بہت ہی کم لوگ ہیں پزاروں اہل صدق ووفا گذرے ہیں مگر کسی نے نہ دیکھا ہوگا اور نہ کسی نے سنا ہو گا کہ وہ ذلیل وخوار ہو ئے ہوں دنیوی امور میں اگر وہ نہایت درجہ کی ترقی کر تے تو زیا دہ سے زیا دہ تین چا ر آنے کی مزدوری کر لیتے اور کس مپرس اور گمنا م لو گوں میں سے ہو تے مگر جب انہوں نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں لگا یا تو خدا تعالیٰ نے اس کو ایسا کیا کہ تمام دنیا میں نا م آور بن گئے اور ان کی عز ت وعظمت دلوں میں بٹھا ئی گئی اور اب ان کے نا م ستاروں کی طرح چمکتے ہیں دنیوی عظمت اور عزت بھی بذریعہ دین ہی حاصل ہو تی ہے پس مبا رک وہی ہے جو دین کو مقدم کر ے ۲؎ دیکھو ایک جو نک کی نسبت بیل کو اور